جدہ ۳۰،مئی۔رابطہ عالم اسلامی نے مکہ مکرمہ میں اپنے اختتامی اجلاس کے موقع پر ’’ مکہ دستاویز‘‘ جاری کی ہے ،اس میں مسلم معاشروں کے مختلف طبقات کے درمیان رواداری اور پْر امن بقائے باہمی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ یہ دستاویز اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس سے دو روز قبل جاری کی گئی ہے۔ یہ سات صفحات کو محیط ہے اور اس میں انتیس مختلف اسلامی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ان کے ساتھ رواداری اور مساوات کے فروغ اور منافرت پھیلانے والے مبلغین کی حوصلہ شکنی کے لیے رہ نماہدایات دی گئی ہیں۔ نیز کسی فرقے کے پیروکاروں کو کم تر خیال کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ ابتدائی صفحہ میں دستاویز کو مقدس شہر مکہ مکرمہ سے جاری کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے کہ اس کو کیوں دنیا بھر میں بسنے والے ایک ارب ساٹھ کروڑ مسلمانوں کے قبلہ کے مقام سے جاری کیا جارہا ہے۔ اس میں اسلام کے خلاف منافرت پھیلانے کی روک تھام کے لیے تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’’اسلامو فوبیا اسلام کو حقیقی طور نہ جاننے کا نتیجہ ہے۔اسلام کو درست طور پر جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا معروضیت سے مطالعہ کیا جائے اور کوئی بے بنیاد حکم لگانے سے گریز کیا جائے ‘‘۔ دستاویز میں دوسرے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت اور بالخصوص سیاسی بالادستی ، اقتصادی لالچ یا فرقہ وار نظریات کی حوصلہ افزائی کے ذریعے دخل اندازی کو مسترد کیا گیا ہے۔ اس میں کسی خاص دین کو اس کے پیروکاروں کے سیاسی اعمال سے جوڑنے سے متعلق امور کا بھی احاطہ کیا گیا ہے اور اس حقیقت پر زور دیا گیا ہے کہ توحید پر مبنی تینوں بڑے ادیان کا ان کے پیروکاروں کی منفی سرگرمیوں اور اعمال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دین اور ثقافت سے متعلق تنازعات کے خاتمے کے لیے دستاویز میں نفرت پھیلانے والے مبلغین اور تشدد اور دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ دستاویز کے انتیس میں سے ایک اصول میں کہا گیا ہے کہ ’’ یہ ہر کسی کی ذمے داری ہے کہ وہ دہشت گردی اور جبرواستبداد سے نمٹنے کے لیے کردار ادا کرے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مسترد کردے۔اس میں اسلام میں خواتین کے حقوق پر زور دیا گیا ہے۔بالخصوص ان حقوق کے مذہبی ، سائنسی ، سیاسی اور سماجی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا تھا اور جنس کی بنیاد پر اجرتوں میں تفریق کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ اس دستاویز کا تصور ’’میثاقِ مدینہ‘‘ سے ملتا جلتا ہے۔پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کا یہود اور مقامی آبادی سے ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ تاریخ میں یہ میثاقِ مدینہ کے نام سے معروف ہے۔ یہ ایک آئینی دستاویز تھی جس کا مقصد ریاست مدینہ میں آباد مختلف عناصر اور طبقات کے درمیان اتحاد ویگانگت کو فروغ دینا اور پْرامن بقائے باہمی کے اصول کی بنیاد پر مل جل کر رہنے کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔
بی جے پی کی کامیابی پر مودی کا بیان: انتقام نہیں، تبدیلی کی سیاست؛ دراندازوں کے خلاف ایکشن ہوگا
سی وی آنند آئی پی ایس نے تلنگانہ کے نئے ڈی جی پی کا عہدہ سنبھال لیا� منشیات کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان
10 روپے کی بحث، جان لیوا حملہ: حیدرآباد کا چونکا دینے والا واقعہ
نجمن سقائے سکینہؐ کی مرکزی انجمن میں دوبارہ شمولیت کی درخواست منظور حیدرآباد (18 اپریل): شہر حیدرآباد کی قدیم ماتمی تنظیم انجمن سقائے سکینہؐ کی بحالی کے بعد اس کی مرکزی انجمن ماتمی گروہان میں دوبارہ شمولیت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں انجمن کے بانی و صدر سید اصغر علی خاں اور جنرل سکریٹری محمد یوسف نے مرکزی انجمن ماتمی گروہان کے صدر سید نجف علی شوکت سے ملاقات کی اور تنظیم کی دوبارہ شمولیت کے لیے باقاعدہ درخواست پیش کی۔ مرکزی انجمن کے صدر سید نجف علی شوکت نے درخواست کو قبول کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو محرم الحرام سے قبل منعقد ہونے والے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی باضابطہ منظوری دی جائے گی۔ واضح رہے کہ انجمن سقائے سکینہؐ کا قیام 1978 میں عمل میں آیا تھا اور یہ ماضی میں شہر کی نمایاں اور فعال ماتمی انجمنوں میں شمار ہوتی رہی ہے۔ انجمن سے وابستہ معروف شخصیات میں سید علمدار نجفی نوحہ خوانی کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے، جبکہ آغا محمد شیرازی نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے مرثیہ و نوحہ خوانی میں بھی حصہ لیتے تھے۔ ہر سال 5 ربیع الاول کو انجمن کی روایتی وداعی مجلس منعقد کی جاتی تھی۔ ماتمی حلقوں کی جانب سے انجمن کی دوبارہ تنظیمی فعالیت اور مرکزی انجمن میں شمولیت کو ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تلنگانہ میں جن سینا پارٹی کی رکنیت سازی مہم تیز، تنظیمی ڈھانچہ مضبوط بنانے پار ٹی قا ئدین سر گرم


















