Tum kitne Hussaini maaroge, har ghar se Hussaini niklega.
سپریم لیڈر علی خا منہ ای اور دیگر شہدا سے اظہار تعزیت
حیدرآباد، 2 مارچ (رپورٹ علی عباس۔ پی ایم آئی): شہر میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ بربریت کے خلاف احتجاجی جلوسوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں میں ملتِ اسلامیہ کا اتحاد نمایاں طور پر دیکھنے میں آیا۔ مظاہرے پرامن انداز میں منعقد کیے جا رہے ہیں اور حکومت و محکمہ پولیس کی جانب سے بھی مکمل تعاون دیکھنے میں آیا۔

شہر کی سیاسی تنظیم مجلس بچاؤ تحریک کی جانب سے آج ایک احتجاجی جلوس چنچل گوڑہ سے الاؤہ سرطوق تک نکالا گیا۔ جلوس دبیرپورہ اور پرانی حویلی سے ہوتا ہوا باگاہ امام زین العابدین (الاؤہ سرطوق مبارک) پر اختتام پذیر ہوا۔

جلوس سے مجلس بچاؤ تحریک کے رہنما مجید اللہ خاں المعروف فرحت خاں، مولانا شجیع مختار اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مقررین نے ایران پر ہونے والے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ و قریبی رفقا کی المناک شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ شہید خامنہ ای ظلم کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں تھے اور ان کی جدوجہد کا مقصد دنیا میں امن و امان کا قیام تھا۔ مقررین کے مطابق وہ ہمیشہ مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرتے رہے، جس کی مثال فلسطین کے معاملے میں ان کا مؤقف ہے۔ رہبر معظم کی شہادت نے یہ پیغام دیا ہے کہ ’’ایک چراغ بجھا ہے لیکن ہزاروں چراغ جلیں گے۔‘‘

ایم بی ٹی کے ترجمان امجد اللہ خاں کی نگرانی میں نوجوانوں نے سیاہ لباس زیب تن کر کے اور سیاہ پرچم اٹھائے امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے بلند کیے۔ اس موقع پر نعرہ لگایا گیا: ’’تم کتنے حسینی مارو گے، ہر گھر سے حسینی نکلے گا۔‘‘

جلوس میں شیعہ برادری کی ماتمی تنظیموں کے سربراہان و اراکین، شیعہ کونسل فار سوشل جسٹس کے ذمہ داران کے علاوہ شیعہ برادری کی معروف شخصیات، کرکٹر شکیل اور امداد حسین بھی سرگرم نظر آئے۔(pressmediaofindia.com)


















