حیدرآباد پولیس کی جانب سے ملک کی پہلی مصنوعی ذہانت پر مبنی کثیر لسانی شکایتی ایپ کا آغاز۔ وی سی سجنار آئی پی ایس

زبان کوئی بھی ہو… اب شکایت درج کروانا آسان۔

حیدرآباد پولیس کے نظام میں ’اے آئی کاپی رائٹر‘ شامل

نئی ٹکنالوجی کا استعمال، AI کاپ رائٹر کا پولیس کمشنر سجنار نے ا کیا فتتاح کیا


حیدرآبار، 25 مئی (پی ایم آئی۔نجف علی شوکت) حیدرآباد پولیس کمشنر وی سی سجنار آئی پی ایس نے پولیسنگ نظام میں جدید ترین ٹیکنالوجی کو شامل کرتے ہوئے ایک اور تاریخی قدم اٹھایا ہے۔انہوں نےاے آئی کاپ رائٹر کو متعارف کیا ہے اس نئی ٹکنالوجی کا افتتاح کیا۔

پولیس اسٹیشن آنے والے متاثرین کو زبان کی دشواریوں سے بچانے اور ان کی شکایات کو تیزی اور درستگی کے ساتھ درج کرنے کے لیے حیدرآباد سٹی پولیس نے ملک میں پہلی بار ’’اے آئی کاپی رائٹر‘‘ نامی مصنوعی ذہانت پر مبنی موبائل ایپ متعارف کرائی ہے۔ہفتہ کے روز بنجارہ ہلز میں واقع ٹی جی آئی سی سی سی میں اس اے آئی کاپی رائٹر ایپ کا افتتاح حیدرآباد کے پولیس کمشنر جناب وی سی سجنار، آئی پی ایس نے کیا اور اس کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا۔

یہ ایپ جلد ہی شہر کے 80 سے زائد پولیس اسٹیشنوں میں دستیاب ہوگی۔ اس ایپ کے ذریعے متاثرین اپنی مادری زبان میں جو شکایت بیان کریں گے، پولیس اسے فوری طور پر ریکارڈ اور ترجمہ کر سکے گی۔حیدرآباد جیسے میٹرو شہر میں تلگو یا انگریزی نہ جاننے والے دیگر ریاستوں کے مزدوروں اور سیاحوں کو شکایت درج کروانے میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔
زبان نہ سمجھنے کی وجہ سے ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر یا معلومات غلط درج ہونے جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ایپ ان مسائل کا مؤثر حل ثابت ہوگی۔ اس ایپ میں 10 سے زائد اہم ہندوستانی زبانوں کو شناخت کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس جدید ایپ کو حیدرآباد سٹی پولیس نے بلیو کلاؤڈ سوفٹ ٹیک سولیوشنز اور انٹرن پاگرو چندو کے تعاون سے تیار کیا ہے۔

اہم خصوصیات:*و ا کثیر لسانی سہولت:

اگر کوئی شخص ہندی، تمل، بنگالی، مراٹھی سمیت 10 زبانوں میں بات کرے تو ایپ فوری طور پر اسے تحریری شکل میں تبدیل کر کے پولیس کی سمجھ آنے والی زبان میں ترجمہ کر دے گی۔* رفتار اور درستگی:گھنٹوں پر مشتمل شکایت درج کرنے کا عمل اب چند سیکنڈ میں مکمل کیا جا سکے گا۔ مترجمین کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔* شفافیت:شکایت درج کرنے والے افسر کی تفصیلات اور وقت وغیرہ خودکار طور پر پی ڈی ایف شکل میں محفوظ ہو جائیں گے، جس سے ریکارڈ میں ردوبدل کا امکان ختم ہو جائے گا۔* ملٹی پارٹی لیبلنگ:متاثرہ شخص، ملزم اور گواہوں کی گفتگو کو الگ الگ شناخت کر کے ریکارڈ کیا جائے گا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حیدرآباد پولیس کمشنر جناب وی سی سجنار، آئی پی ایس نے کہا کہ ملک میں پہلی بار اے آئی پر مبنی ملٹی لنگول کمپلینٹ ریکارڈر متعارف کروانا باعثِ فخر ہے۔انہوں نے کہا:“حیدرآباد ایک عالمی شہر ہے جہاں دیگر ریاستوں سے آئے ہوئے افراد اور غیر ملکی بڑی تعداد میں رہتے ہیں جنہیں تلگو یا انگریزی نہیں آتی۔ زبان کی رکاوٹ کے باعث شکایت درج کروانے میں تاخیر یا معلومات غلط درج ہونے جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔

یہ ایپ ان تمام مسائل کا خاتمہ کرے گی۔ متاثرہ شخص اپنی مادری زبان میں بات کرے گا تو ایپ فوری طور پر اس کی شناخت، ترجمہ اور سرکاری ریکارڈ میں تبدیل کر دے گی۔ ہر پانچ سیکنڈ میں معلومات اپڈیٹ ہوتی رہیں گی۔ اس ٹیکنالوجی سے خاص طور پر مزدوروں، خواتین اور بزرگوں کا پولیس خدمات پر اعتماد بڑھے گا۔ متاثرین کی ہر بات جوں کی توں ریکارڈ ہونے سے تفتیش کا معیار بہتر ہوگا اور ملزمین کو سزا دلانے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اس سے پولیس اہلکاروں پر ٹائپنگ کا بوجھ بھی کم ہوگا اور ریکارڈ کے انتظام میں یکسانیت برقرار رہے گی۔”
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ’’اے آئی کاپی رائٹر‘‘ جدید پولیسنگ میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا، کیونکہ انصاف کے حصول میں زبان کبھی رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے ’’اسمارٹ پولیسنگ‘‘ کے ذریعے عوام کو مزید بہتر اور تیز خدمات فراہم کرنا حیدرآباد سٹی پولیس کا مقصد ہے۔اس ایپ کی افتتاحی تقریب میں ایڈیشنل سی پی (کرائمس اینڈ ایس آئی ٹی) ایم سری نواسولو، آئی پی ایس، ایڈیشنل سی پی (لاء اینڈ آرڈر) تفصیر اقبال، آئی پی ایس، ڈی سی پی (ایس ایم آئی ٹی) سی ایچ روپیش، آئی پی ایس، آئی ٹی سیل انسپکٹر رمیش، بلیو کلاؤڈ سوفٹ ٹیک سولیوشنز کے نمائندے اور دیگر افراد شریک تھے۔شہری پولیسنگ میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمالجدید پولیسنگ میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لیے حیدرآباد سٹی پولیس مصنوعی ذہانت (AI) کا وسیع پیمانے پر استعمال کر رہی ہے۔

امن و امان کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے مقصد سے ٹیکنالوجی پر مبنی انتظامیہ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔اسی سلسلے میں سائبر کرائم شکایات کو درست انداز میں تیار کرنے کے لیے ’’سی-متر‘‘ میں اے آئی ٹیکنالوجی کو کامیابی سے نافذ کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ سٹی آرمڈ ریزرو عملے کو ڈیوٹیاں تفویض کرنے کے عمل میں بھی اے آئی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماضی کے دستی
طریقۂ کار کی جگہ اس خودکار نظام کے نفاذ سے بغیر کسی جانبداری کے عملے کو پوسٹنگ دی جا رہی ہے، جس سے نظام میں مکمل شفافیت پیدا ہو رہی ہے۔

سوشل میڈیا پر امن عامہ کو متاثر کرنے والے مواد کی نشاندہی کے لیے ’’ساک-آئی‘‘ نامی اے آئی ایپ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ ایپ آن لائن مواد کی مسلسل نگرانی کرنے کے ساتھ خواتین اور بچوں کی سلامتی کے لیے خطرناک پوسٹس کی شناخت میں اہم کردار ادا کر رہاہے۔اب شکایات درج کرنے کے عمل کو بھی اے آئی سے جوڑ دیا گیا ہے، جس کے لیے ’’اے آئی کاپی رائٹر‘‘ ایپ تیارکیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے عوام کی شکایات مزید تیزی اور منظم انداز میں درج کی جا سکیں گی(pressmediaohindia.com)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں