صرف 110 روپے کے لیے قتل، دو ملزمان گرفتار

حیدرآباد، ۹جون: ( پی ایم آئی) سکندرآباد کے لالہ گوڑہ پولیس اسٹیشن حدود میں پیش آئے ایک قتل کے سنسنی خیز معاملے کو پولیس نے حل کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر کے عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔ اس کیس کی تفصیلات سکندرآباد زون کے ڈی سی پی دفتر میں ڈی سی پی رکشیتا کے مور تی اور ایڈیشنل ڈی سی پی جے نر سیاّنے پریس کانفرنس میں بیان کیں۔پولیس کے مطابق 3 جون کی صبح لالہ گوڑہ پولیس کو اطلاع ملی کہ تکا رام ریلوے بریج کے قریب ایک نامعلوم شخص کی لاش پڑی ہوئی ہے۔

پولیس موقع پر پہنچی تو ایک شخص خون میں لت پت مردہ حالت میں پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مقتول کے سر پر بڑے پتھروں سے حملہ کرکے اسے قتل کیا گیا تھا۔ جائے واردات سے شراب کی بوتل اور ایک بیگ بھی برآمد ہوا۔پولیس نے مقدمہ درج کرکے مقتول کی شناخت اور ملزمان کی تلاش کے لیے چار خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔ تین دن کی مسلسل تحقیقات کے بعد مقتول کی شناخت جئے پر کاش دیشمکھ ( 38) کے طور پر ہوئی، جو مدھیہ پردیش کا رہنے والا تھا اور حیدرآباد میں مستری کا کام کرکے روزی روٹی کماتا تھا۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ 2 جون کو جئے پرکاش قا ضی پیٹ سے سکندرآباد آیا تھا اور اپنے بھائی کے گھر جانے کے دوران واردات کا شکار ہوگیا۔ اسی دوران مونڈا مارکیٹ علاقے میں اس کی ملاقات توکارام گیٹ کے رہائشی ونود اور اڈاگوٹہ کے رہائشی مکا لا مو ہن(19) سے ہوئی، جو بالترتیب گروسری اور فوڈ ڈلیوری کا کام کرتے تھے۔

ملزمان نے جئے پرکاش کو ریلوے اسٹیشن چھوڑنے کا جھانسہ دے کر ایک سنسان مقام پر لے گئے اور اس سے رقم اور موبائل فون چھیننے کی کوشش کی۔ جب مقتول نے مزاحمت کی تو دونوں نے بڑے پتھروں سے اس کے سر پر حملہ کرکے قتل کردیا۔ واردات کے بعد ملزمان مقتول کے صرف 110 روپے نقد اور ایک موبائل فون لوٹ کر فرار ہوگئے۔پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی شواہد کی مدد سے 8 جون کو دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق دابھی ونود کے خلاف ماضی میں بھی کئی مجرمانہ مقدمات درج ہیں
K. Shashanth Reddy، T. Ashok Kumar، Rajashekhar اور Madhubabu بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں