وندے ماترم کی توہین کو قابلِ سزا جرم قرار دینے کا بل آج راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا

نئی دہلی: مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ آج پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز راجیہ سبھا میں “پریوینشن آف اِنسلٹس ٹو نیشنل آنر (ترمیمی) بل، 2026” پیش کریں گے۔ مجوزہ بل کا مقصد بھارت کے قومی نغمے “وندے ماترم” کو وہی قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے جو اس وقت قومی ترانے “جن گن من” کو حاصل ہے۔ بل منظور ہونے کی صورت میں “وندے ماترم” کی جان بوجھ کر توہین کرنا، اس کی گائیکی میں رکاوٹ ڈالنا یا اس کے دوران خلل پیدا کرنا ایک قابلِ سزا جرم بن جائے گا۔

یہ بل پریوینشن آف اِنسلٹس ٹو نیشنل آنر ایکٹ، 1971 میں ترمیم کی تجویز پیش کرتا ہے، جو اس وقت قومی پرچم، آئینِ ہند اور قومی ترانے کی بے حرمتی یا توہین کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت دیتا ہے۔ موجودہ قانون کے تحت اگر کوئی شخص جان بوجھ کر قومی ترانے کی گائیکی میں رکاوٹ ڈالے یا اس کے دوران بدنظمی پیدا کرے تو اسے تین سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

مجوزہ ترمیم کے مطابق یہی قانونی دفعات اب قومی نغمے “وندے ماترم” پر بھی لاگو ہوں گی۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر “وندے ماترم” کی گائیکی میں رکاوٹ ڈالے، اس کے دوران شور شرابہ کرے، پروگرام میں خلل پیدا کرے یا اس کی ادائیگی کو روکنے کی کوشش کرے تو اسے بھی قومی ترانے کی توہین سے متعلق موجودہ قانون کے تحت سزا دی جا سکے گی، جس میں زیادہ سے زیادہ تین سال قید، جرمانہ یا دونوں شامل ہیں۔

بل میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی اجتماع میں جہاں “وندے ماترم” گایا جا رہا ہو، اس میں جان بوجھ کر مداخلت کرنا، گائیکی کو روکنا یا تقریب میں خلل ڈالنا قومی اعزاز کے خلاف جرم تصور کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس ترمیم کا مقصد قومی نغمے کو بھی قومی ترانے کے مساوی قانونی اور آئینی تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اگرچہ “وندے ماترم” کو طویل عرصے سے بھارت کا قومی نغمہ تسلیم کیا جاتا ہے اور آزادی کی تحریک میں اس کی تاریخی اور علامتی اہمیت رہی ہے، تاہم اسے اب تک 1971 کے قانون کے تحت قومی ترانے جیسا قانونی تحفظ حاصل نہیں تھا۔ مجوزہ ترمیم کے ذریعے اس فرق کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ قانون سازی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 9 جولائی کو مرکزی وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے) نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت جاری کی تھی کہ جہاں بھی سرکاری تقریبات میں قومی نغمہ اور قومی ترانہ دونوں پیش کیے جائیں، وہاں “وندے ماترم” کو “جن گن من” سے پہلے بجایا یا گایا جائے۔ وزارت نے اس ہدایت پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ریاستوں کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔

یہ بل پیر کے روز راجیہ سبھا کے ایجنڈے میں شامل ہے اور امکان ہے کہ وزیرِ داخلہ امت شاہ اسے ایوان میں پیش کریں گے۔ بل کی منظوری کے بعد اسے لوک سبھا میں بھی پیش کیا جائے گا، اور اگر دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد صدرِ جمہوریہ کی منظوری حاصل ہو جاتی ہے تو “وندے ماترم” کی توہین، اس کی گائیکی میں رکاوٹ ڈالنا یا اس کے دوران خلل پیدا کرنا بھارتی قانون کے تحت باقاعدہ قابلِ سزا جرم بن جائے گا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اس ترمیم کا مقصد قومی نغمے کو قومی ترانے کے مساوی قانونی حیثیت اور تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ ملک کے دونوں اہم قومی علامات کے احترام اور وقار کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں