حیدرآباد، 7 ستمبر (پی ایم آئی): کوہِ امام ضامن کی اراضی سے متعلق بعض ویڈیوز اور دعوے سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں، جن میں اراضی پر مبینہ تعمیرات اور وقف بورڈ کی جانب سے بعض تعمیراتی ڈھانچوں کو ہٹانے کی کارروائی دکھائی دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی مکمل سرکاری طور پر تصدیق یا تردید تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
پی ایم آئی نیوز کو ایک مومن کی جانب سے موصول ہونے والی ویڈیوز کی بنیاد پر یہ معاملہ سامنے آیا ہے۔ ویڈیو میں ایک مقام پر مبینہ طور پر ایسی اراضی پر تعمیراتی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہاں 75،75 یعنی مجموعی طور پر 150 فلیٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ ویڈیو فراہم کرنے والے کے مطابق یہ اراضی کوہِ امام ضامن سے متعلق ہے۔ تاہم اراضی کی ملکیت اور تعمیرات کی قانونی حیثیت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ایک دوسری ویڈیو میں بعض افراد، جنہیں ویڈیو میں وقف بورڈ کا عملہ بتایا جا رہا ہے، ایک مقام پر پلّرس یا تعمیراتی ڈھانچے ہٹاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو فراہم کرنے والے کے مطابق یہ تقریباً 10 ایکڑ اراضی کوہِ امام ضامن کی وقف اراضی ہے۔ اس دعوے کی بھی متعلقہ سرکاری ریکارڈ یا حکام سے آزادانہ تصدیق درکار ہے۔
ویڈیو میں ایک شخص کی جانب سے مبینہ طور پر اس کارروائی میں مداخلت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد دونوں جانب سوال و جواب اور معمولی تکرار ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ویڈیو میں موجود افراد کی شناخت یا ان کے قانونی موقف کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعد ازاں وہاں ایک بورڈ بھی نصب کیا گیا، جس پر ’’ٹی کشن راؤ ولد ٹی گوپال راؤ‘‘ کا نام درج ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بورڈ اب بھی وہاں موجود ہے۔ تاہم بورڈ لگانے والے افراد کا اراضی پر قانونی حق یا ملکیت کا دعویٰ اس خبر کی حد تک ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
اس معاملے پر شیعہ برادری کے بعض افراد کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وقف بورڈ، متعلقہ شیعہ رکن وقف بورڈ اور کوہِ امام ضامن کمیٹی اراضی کی ملکیت، موجودہ صورتحال اور کسی بھی قانونی کارروائی کے بارے میں واضح معلومات عوام کے سامنے رکھیں۔
بعض افراد کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ معاملے کے پس پردہ سیاسی یا دیگر مفادات ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ٹھوس شواہد اور متعلقہ حکام کا موقف ضروری ہے۔

عوامی حلقوں کی جانب سے وقف بورڈ کے سی ای او اسد اللہ اور حیدر آغا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ معاملے پر اپنا موقف واضح کریں اور اگر اراضی وقف ریکارڈ میں درج ہے تو اس کی موجودہ قانونی حیثیت اور تحفظ کے لیے کی جانے والی کارروائی سے عوام کو آگاہ کریں۔
پی ایم آئی نیوز واضح کرتا ہے کہ اس خبر میں بیان کردہ اراضی، ملکیت، قبضے یا تعمیرات سے متعلق دعوے متعلقہ افراد یا ویڈیو فراہم کرنے والے کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔ ان دعوؤں کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔ متعلقہ حکام اور دیگر فریقین کا موقف موصول ہونے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔


















