’26‘ کا عنصر: نیپال کے سیلاب نے 26 تاریخ کو پیش آنے والی مہلک آفات کی فہرست میں ایک اور سانحہ شامل کردیا

نئی دہلی، : کیا 26 تاریخ منحوس ہے؟ 26 اگست کو نیپال میں آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب نے ان ہولناک آفات کی طویل تاریخ میں ایک اور سانحہ شامل کردیا ہے جو مختلف ادوار میں کسی نہ کسی ماہ کی 26 تاریخ کو پیش آئے۔ اس فہرست میں 1939 کا ترکی کا زلزلہ بھی شامل ہے، جس میں 32,700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 2004 کے باکسنگ ڈے سونامی میں تقریباً 2,28,000 افراد ہلاک، لاپتہ یا مردہ تصور کیے گئے تھے۔

یہ سلسلہ صرف قدرتی آفات تک محدود نہیں ہے۔ 2001 کا گجرات زلزلہ، جس میں تقریباً 20,000 افراد ہلاک ہوئے، بھی 26 تاریخ کو آیا تھا۔ اسی طرح 26 نومبر 2008 کو ممبئی میں دہشت گردانہ حملوں کا آغاز ہوا تھا، جبکہ 26 اپریل 1986 کو چرنوبل جوہری حادثہ پیش آیا تھا۔

26 تاریخ کو پیش آنے والے بڑے سانحات پر ایک نظر:

قدرتی آفات
26 اگست 2026: نیپال میں اچانک سیلاب

نیپال کے ضلع رسوا اور اس سے متصل نشیبی علاقوں میں اس وقت بڑے پیمانے پر اچانک سیلاب آگیا جب بھوٹے کوشی دریائی نظام میں پانی اور ملبے کا اچانک شدید بہاؤ داخل ہوگیا۔ سیلاب نے آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، سڑکیں اور پل بہا دیے اور پن بجلی منصوبوں سمیت دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔ 31 اگست تک حکام کے مطابق 900 سے زائد افراد ہلاک جبکہ تقریباً 4,500 افراد لاپتہ تھے۔

26 اکتوبر 2015: ہندوکش زلزلہ

7.5 شدت کے زلزلے نے ہندوکش کے خطے کو ہلا کر رکھ دیا، جس سے افغانستان، پاکستان اور شمالی بھارت کے بعض علاقے متاثر ہوئے۔ زلزلے کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور تقریباً 400 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر ہلاکتیں پاکستان اور افغانستان میں ہوئیں۔

26 مئی 2006: یوگیاکارتا زلزلہ، انڈونیشیا

انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں یوگیاکارتا کے قریب 6.3 شدت کا زلزلہ آیا، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ ہزاروں مکانات اور عمارتیں تباہ یا متاثر ہوئیں اور 5,700 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

26 جولائی 2005: مہاراشٹرا میں سیلاب

26 جولائی 2005 کو غیر معمولی طور پر شدید مون سون بارشوں نے مہاراشٹرا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں خصوصاً ممبئی میں تباہ کن سیلاب آیا۔ ممبئی میں 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 944 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے سڑکیں، مکانات اور ریلوے لائنیں زیر آب آگئیں اور معمولات زندگی مفلوج ہوگئے۔ مہاراشٹرا میں مجموعی طور پر 1,094 افراد ہلاک ہوئے۔

26 دسمبر 2004: بحر ہند کا زلزلہ اور سونامی

26 دسمبر کو سماٹرا کے ساحل کے قریب 9.1 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں بحر ہند سے متصل کئی ممالک میں تباہ کن سونامی آیا۔ انڈونیشیا، سری لنکا، بھارت اور تھائی لینڈ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل تھے۔ تقریباً 2,28,000 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوئے اور مردہ تصور کیے گئے۔ یہ انسانی تاریخ کی مہلک ترین قدرتی آفات میں سے ایک تھا۔

26 دسمبر 2003: بم زلزلہ، ایران

ایران کے شہر بم میں 26 دسمبر کو 6.6 شدت کا زلزلہ آیا، جس نے تاریخی شہر اور اطراف کی آبادیوں کا بیشتر حصہ تباہ کردیا۔ ہزاروں عمارتیں منہدم ہوگئیں اور ہلاکتوں کی تعداد کے مختلف اندازے سامنے آئے، تاہم تقریباً 31,000 اموات کا عدد وسیع پیمانے پر رپورٹ ہوا۔

25-26 مارچ 2002: افغانستان میں زلزلوں کا سلسلہ

25 اور 26 مارچ کی درمیانی شب شمالی افغانستان میں زلزلوں کا ایک سلسلہ آیا، جس نے صوبہ بغلان کے بعض علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ کچی اینٹوں سے بنے مکانات منہدم ہوگئے اور ہزاروں افراد بے گھر ہوئے۔ ابتدائی اندازوں میں ہلاکتوں کی تعداد 1,800 تک بتائی گئی، تاہم امدادی کارروائیوں کے دوران بعد کے جائزوں میں مختلف اعداد و شمار سامنے آئے۔

26 جنوری 2001: گجرات زلزلہ

26 جنوری 2001 کو گجرات میں آنے والے شدید زلزلے نے ریاست کے بڑے حصے، خصوصاً کچھ کے علاقے کو تباہ کردیا۔ ایک لاکھ 66 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ تقریباً 20,000 افراد ہلاک ہوئے۔

26 اپریل 1990: گونگھے زلزلہ، چین

26 اپریل 1990 کو چین کے صوبہ چنگھائی میں 7 شدت کا زلزلہ آیا، جس سے گونگھے کے علاقے میں شدید تباہی ہوئی اور 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

26 نومبر 1987: پانتار زلزلہ اور سونامی، انڈونیشیا

26 نومبر 1987 کو انڈونیشیا کے پانتار علاقے میں 6.5 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں سونامی پیدا ہوا۔ اس آفت میں 125 افراد ہلاک ہوئے۔

26 مئی 1983: بحیرہ جاپان کا زلزلہ اور سونامی

26 مئی 1983 کو شمالی جاپان کے قریب 7.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے نتیجے میں اکیتا اور آوموری صوبوں کے ساحلی علاقوں سے سونامی ٹکرایا۔ زیادہ تر ہلاکتیں سونامی کے باعث ہوئیں اور 104 افراد جان سے گئے۔

26 جولائی 1963: اسکوپئے زلزلہ

26 جولائی 1963 کو اس وقت کے یوگوسلاویہ کے شہر اسکوپئے میں 6.1 شدت کا زلزلہ آیا۔ شہر کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا، 2 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے اور تقریباً 1,070 افراد ہلاک ہوئے۔

26 نومبر 1943: لادک زلزلہ، ترکی

26 نومبر 1943 کو ترکی کے لادک، سامسون اور حوضہ کے علاقے میں 7.5 شدت کا زلزلہ آیا۔ شمالی ترکی میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور تقریباً 4,020 افراد ہلاک ہوئے۔

26-27 دسمبر 1939: ارزنجان زلزلہ، ترکی

26 دسمبر 1939 کو ترکی کے ارزنجان علاقے میں 7.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس نے شمالی اناطولیہ کی فالٹ لائن کے ساتھ بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ہزاروں عمارتیں منہدم ہوئیں اور تقریباً 32,700 افراد ہلاک ہوئے۔

26 ستمبر 1932: لیریسوس زلزلہ، یونان

26 ستمبر 1932 کو یونان کے جزیرہ نما چالکیڈیکی میں شدید زلزلہ آیا، جس سے لیریسوس اور آس پاس کے علاقوں کو شدید نقصان پہنچا۔ سیکڑوں مکانات تباہ ہوئے اور سونامی بھی ریکارڈ کیا گیا۔ تاریخی اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 160 سے 500 تک رہی۔

26 نومبر 1930: شمالی ایزو زلزلہ، جاپان

26 نومبر 1930 کو جاپان کے ایزو جزیرہ نما میں 7.3 شدت کا زلزلہ آیا۔ بڑے پیمانے پر تباہی کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ اور آگ نے بھی نقصان میں اضافہ کیا۔ تقریباً 250 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بعد کے ریکارڈ میں 272 اموات درج کی گئیں۔

انسانی ساختہ سانحات
26 ستمبر 2023: قرہ قوش ویڈنگ ہال میں آتشزدگی، عراق

موصل کے قریب قرہ قوش میں ایک شادی ہال میں آتشزدگی اس وقت شروع ہوئی جب اندرونی آتش بازی سے انتہائی آتش گیر مواد نے آگ پکڑ لی۔ آگ تیزی سے ہال میں پھیل گئی اور 100 سے زائد افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔

26 اگست 2021: کابل ایئرپورٹ بم دھماکہ

26 اگست 2021 کو افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایک خودکش حملہ آور نے دھماکہ کیا۔ اس وقت ہزاروں افراد ایئرپورٹ کے قریب جمع تھے۔ حملے میں کم از کم 183 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 170 افغان شہری اور 13 امریکی فوجی اہلکار شامل تھے۔

26 نومبر 2008: ممبئی دہشت گرد حملے

26 نومبر 2008 کی رات ممبئی میں دہشت گردانہ حملوں کا آغاز ہوا۔ لشکر طیبہ سے وابستہ 10 دہشت گردوں نے چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس، تاج محل پیلس ہوٹل سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔ محاصرہ تقریباً تین روز تک جاری رہا۔ حملوں میں 166 افراد ہلاک، جبکہ نو حملہ آور بھی مارے گئے اور 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

26 مئی 1991: لاؤڈا ایئر فلائٹ 004 حادثہ

بینکاک سے ویانا جانے والا لاؤڈا ایئر کا بوئنگ 767 طیارہ 26 مئی 1991 کو تھائی لینڈ میں گر کر تباہ ہوگیا۔ انجن کے تھرسٹ ریورسر کے غیر ارادی طور پر فعال ہونے کے باعث طیارہ قابو سے باہر ہوگیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ طیارے میں سوار تمام 223 افراد ہلاک ہوگئے۔

26 اپریل 1986: چرنوبل جوہری سانحہ

26 اپریل 1986 کو اُس وقت کے سوویت یوکرین میں واقع چرنوبل جوہری بجلی گھر کے ری ایکٹر نمبر 4 میں حفاظتی تجربے کے دوران دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں تابکار مواد خارج ہوا۔ فوری طور پر سرکاری طور پر 31 ہلاکتیں رپورٹ کی گئیں، جبکہ یورپ کے مختلف علاقوں میں تابکاری پھیلنے سے بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوئے۔ تابکاری کے باعث طویل مدتی اموات کی تعداد براہِ راست شمار کرنے کے بجائے سائنسی اندازوں پر مبنی ہے۔

26 اپریل 1942: بینشیہو کوئلہ کان حادثہ، چین

26 اپریل 1942 کو چین کے صوبہ لیاوننگ میں واقع بینشیہو کوئلے کی کان میں گیس اور کوئلے کی دھول کے دھماکے نے تباہی مچا دی۔ دھماکے کے بعد کاربن مونو آکسائیڈ کے زہریلے اثرات کے باعث 1,549 کان کن ہلاک ہوئے، جو تاریخ کے مہلک ترین کان کنی حادثات میں سے ایک ہے-(pressmediaofindia.com)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں