حیدرآباد: سکندرآباد زون کے مختلف علاقوں میں خود کو مستند ڈاکٹر ظاہر کرکے غیرمجاز کلینک چلانے والے 6 افراد کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ پولیس نے ان کے قبضے سے جعلی میڈیکل اسناد، زائد المیعاد ادویات، انجکشن اور مریضوں کے علاج میں استعمال ہونے والا دیگر طبی سامان برآمد کیا ہے۔ یہ کارروائی منگل 25 اگست کو کی گئی۔
کمشنر کی ٹاسک فورس، سکندرآباد زون نے رام گوپال پیٹ، چِلکَل گوڑہ، او یو سٹی اور ڈومل گوڑہ پولیس کے ساتھ مل کر مصدقہ اطلاع پر مختلف کلینکس پر چھاپے مارے۔ ڈی سی پی وایبھو گائیکواڑ رگھوناتھ نے بتایا کہ ملزمین مبینہ طور پر خود کو مستند طبیب ظاہر کرکے مریضوں کو آئی وی سیلائن، گلوکوز اور انجکشن دے رہے تھے، جس سے مریضوں کی صحت اور زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔
گرفتار افراد کی شناخت
پولیس کے مطابق گرفتار افراد میں نیلاگیری پرساد (40) شامل ہے، جو چِلکَل گوڑہ میں بادی مسجد کے قریب فیملی کلینک چلاتا تھا۔ عدنان سمدانی (23) نلہ گٹہ، رانی گنج میں سمدانی کلینک چلاتا اور خود کو جلد کا ماہر ڈاکٹر ظاہر کرتا تھا۔
دیگر گرفتار افراد میں ایم سری نواس (51) شامل ہے، جو لوئر ٹینک بنڈ کے قریب سائی رام کلینک گزشتہ 26 برس سے چلا رہا تھا۔ پیڈاپٹلہ سدانند (52) چِلکَل گوڑہ میں ویسلی چرچ کے قریب اسی نام سے کلینک چلاتا تھا، جبکہ چنتلوری رمیش (45) مانکیشور نگر میں سروجنی پولی کلینک اور شیوراتری لنگیاہ (57) اسی علاقے میں سوریہ کلینک چلاتا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ ان چھ افراد میں سے کسی کے پاس جدید طب کی پریکٹس کے لیے معتبر طبی اہلیت موجود نہیں تھی۔
جعلی MBBS سرٹیفکیٹ کا استعمال
پولیس کے مطابق نیلاگیری پرساد نے BHMS کی ڈگری حاصل کی تھی، تاہم اس نے مبینہ طور پر ’’انڈین آلٹرنیٹو میڈیکل کونسل‘‘ نامی ادارے سے جعلی MBBS سرٹیفکیٹ حاصل کیا اور خود کو جنرل اور بچوں کا ماہر ڈاکٹر ظاہر کرتے ہوئے علاج شروع کردیا۔
عدنان سمدانی نے صرف انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی تھی، لیکن وہ گزشتہ چار سال سے مبینہ طور پر خود کو ماہرِ امراضِ جلد ظاہر کررہا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ کیلشیم پاؤڈر اور زنک آکسائیڈ استعمال کرکے ایک گھریلو پیٹرولیم جیل تیار کرتا تھا اور اسے سورائسس (چنبل) کے علاج کے لیے استعمال کرتا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ باقی چار ملزمین نے اسپتالوں میں کمپاؤنڈر کے طور پر کام کرنے کے دوران معمولی طبی معلومات حاصل کیں اور بعد ازاں بغیر کسی باقاعدہ طبی اہلیت کے اپنے کلینکس قائم کرلیے۔ بعض ملزمین مبینہ طور پر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کلینک چلا رہے تھے۔
جعلی اسناد، ادویات اور طبی سامان ضبط
پولیس نے چھ کلینکس سے ایک جعلی MBBS سرٹیفکیٹ، BHMS سرٹیفکیٹ اور مارک لسٹ، ربڑ اسٹامپس، نسخہ پیڈ، 5 اسٹیتھواسکوپ، 5 بلڈ پریشر مشینیں، 5 پلس آکسی میٹر، 4 تھرمامیٹر، 70 سرنجیں، مختلف برانڈز کے 277 انجکشن، 933 گولیاں، 57 شربت کی بوتلیں، 16 مرہم اور گلوکوز کی بوتلیں سمیت دیگر طبی سامان ضبط کیا۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ علاج کروانے سے قبل ڈاکٹر کی طبی قابلیت اور رجسٹریشن کی تصدیق کریں۔ پولیس نے خبردار کیا کہ خود کو جعلی طور پر مستند ڈاکٹر ظاہر کرکے علاج کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔(pressmediaofindia.com)


















