اللہ کے گھر میں: خو ساختہ مر کز کے سر پرست کے حق بیا نی

کبھی نہ کبھی حق زبان پر آ ہی جاتا ہے، کیونکہ حق کو نہ خوف سے دبایا جا سکتا ہے اور نہ مصنوعی دعوؤں کے پردے میں چھپایا جا سکتا ہے۔

4 اگست، روزِ اربعین، مسجدِ جعفری میں خود ساختہ مرکزی انجمن کے سرپرست محمد رضا زیدی علی پاشاہ کی جانب سے اچانک کیا گیا ایک حق بیان، وہاں موجود صدرِ مرکزی انجمن جناب نجف علی شوکت سمیت عزاداروں کے لیے بھی باعثِ حیرت بنا۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا:

“مرکزی انجمن کے دو ہی پروگرام ہیں؛ ایک جلوسِ اربعین اور دوسرا چُپ تعزیہ۔”

یہ بیان محض ایک جملہ نہیں، بلکہ ایک ایسا مؤقف ہے جسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔ بالخصوص اس لیے کہ مرکزی انجمن کے بانیان میں شمار ہونے والے سید احمد رضا زیدی المعروف چھوٹے بھائی کی روایت اور مؤقف بھی اس تناظر میں اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر حقیقت یہی ہے تو پھر خود ساختہ مرکز کی جانب سے “365 دن کام کرنے” کے دعوے کی حقیقت کیا ہے؟

کسی ادارے، مرکز یا تنظیم کی اصل پہچان بڑے دعوے نہیں ہوتے، بلکہ اس کی تاریخ، روایت، عملی کردار اور عوام کے سامنے اس کی سچائی ہوتی ہے۔

حق بات کہنے والے کو خاموش کرانے کے بجائے اس کے مؤقف کا جواب دلیل اور حقیقت سے دیا جانا چاہیے۔

اللہ کے گھر میں کہی گئی حق بات کو محض اس لیے رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی کے مفاد یا دعوے کے خلاف ہے۔

سچ کڑوا ضرور ہوتا ہے، مگر سچ ہی رہتا ہے۔

حق کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے، ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں