حیدرآباد، 19 جولائی (پی ایم آئی): حیدرآباد کی سردار ولبھ بھائی پٹیل نیشنل پولیس اکیڈمی (SVPNPA) میں زیرِ تربیت ایک خاتون آئی پی ایس افسر نے اپنے ساتھی آئی پی ایس ٹرینی ادے کرشنا ریڈی پر جنسی ہراسانی، جسمانی تشدد، دھمکانے اور بلیک میل کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ شکایت کی بنیاد پر عطاء پور پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس کے مطابق، متاثرہ خاتون افسر نے اپنی شکایت میں الزام لگایا ہے کہ 23 جون سے ملزم مسلسل انہیں ہراساں کرتا رہا۔ شکایت کے مطابق، ادے کرشنا ریڈی نے واٹس ایپ پر انہیں جنسی نوعیت کے نازیبا اور توہین آمیز پیغامات بھیجے اور دیگر ٹرینی افسران کے سامنے تلگو زبان میں ان کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کیے۔
خاتون افسر نے مزید الزام لگایا کہ ملزم نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ ان کے ایک دوسرے ٹرینی افسر کے ساتھ تعلقات ہیں اور مسلسل دباؤ ڈالتا رہا کہ وہ اس بات کا اعتراف کریں۔ اس دوران اس نے انہیں گالی گلوچ کی اور ذہنی طور پر ہراساں کیا۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے انہیں دھمکایا اور بلیک میل کرتے ہوئے ان کا موبائل فون چیک کرنے پر مجبور کیا۔ تقریباً دس روز قبل اس نے مبینہ طور پر ان کا موبائل فون چھین لیا اور زبردستی اس کا پاس ورڈ معلوم کیا۔
خاتون افسر کے مطابق 9 جولائی کی رات ملزم نے انہیں زبردستی روک لیا، اپنے کمرے میں لے گیا، بال پکڑ کر گھسیٹا، گلا دبانے کی کوشش کی، گردن پر چاقو رکھ کر جان سے مارنے کی دھمکی دی اور انہیں وہاں سے جانے نہیں دیا۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ 10 جولائی کو ملزم نے ان پر جسمانی حملہ کیا، نازیبا انداز میں چھیڑ چھاڑ کی، ان کے جسم کے حساس حصوں کو چھونے کی کوشش کی، ان کی اجازت کے بغیر ایک نجی ویڈیو ریکارڈ کی اور بعد میں انہیں بلیک میل کرنے کی غرض سے وہ ویڈیو ان کے شوہر کو بھیج دی۔ خاتون افسر نے یہ بھی الزام لگایا کہ ملزم نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے ان کے بارے میں جھوٹی اور ہتک آمیز معلومات بھی پھیلائیں۔
شکایت کی بنیاد پر عطاء پور پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
تاحال نہ تو سردار ولبھ بھائی پٹیل نیشنل پولیس اکیڈمی کی جانب سے اس واقعہ پر کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی پولیس نے ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
یہ معاملہ زیرِ تفتیش ہے، لہٰذا الزامات کی صداقت کا حتمی فیصلہ عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔


















