علم سرطوق کا معجزہ ’اورنگ زیب حیران و متاثر۔۔علم سرطوق کو دو بارہ دارالشفا’ میں ایستاد کر نے کا حکم

حیدررآباد، 22اگست (پی ایم آئی) قطب شا ہی دور کی435سالہ تاریخی عمارت دارالشفا’ہا سپیٹل میں واقع الاوہ سرطوق حیدرآباد کے قدیم مذہبی، تاریخی اور ثقافتی ورثے کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس عاشورخانے سے منسوب روایات میں علمِ مبارک، اس میں محفوظ تبرک اور مغل بادشاہ اورنگ زیب کے دور سے جڑا ایک معجزہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔جو دنیا کی آنکھیں کھو لنے کے لئے کا فی ہے۔تا ریخی حوالوں کے مطابق علمِ سرطوق چوتھے امام حضرت امام زین العابدینؑ سے منسوب ہے۔ علمِ مبارک میں طوق کا ایک حصہ ہے، جسے واقعۂ کربلا کے بعد امام زین العابدینؑ کے گلے میں ڈالے جانے والی خار دار طوق کا ہے۔

۔اورنگ زیب کا فرمان اور عاشورخانوں کی مسدودی
تا ریخی شوا ہد کے مطابق دکن میں قطب شاہی حکومت کے خاتمے اور سلطان ابوالحسن تاناشاہ کی گرفتاری کے بعد مغل بادشاہ اورنگ زیب نے متعدد عاشورخانوں کی مسدودی کا حکم دیا۔ اسی دوران علمِ سرطوق کو بھی ضبط کرنے کی ہدایت دی گئی۔یہ خبر ملتے ہی اس وقت کے متولی حشمت علی بیگ نےدار الشفا’ سے علمِ سرطوق کو اتوار چوک منتقل کر کےوہاں ایستاد کیا۔ جب علم کی موجودگی کی اطلاع اورنگ زیب تک پہنچی تو اسے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا۔ تاہم بادشاہ کو بتایا گیا کہ علم سر طوق سے کئی معجزات منسلک ہیں

دو ہاتھیوں سے منسوب واقعہ

یہ سن کر اورنگ زیب نے علم سے منسوب اس معجزہ کو خود دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ علم کو ایک ہاتھی کی پشت پر رکھ کر عاشورخانے سے باہر لے جانے کی کوشش کی گئی، تاہم جیسے ہی ہاتھی آگے بڑھا، اس کی کمر شق ہونے کا واقعہ پیش آیا۔اس کے بعد دوسرے ہاتھی کو لایا گیا۔مو ر خین کے مطابق علم کو دوسرے ہاتھی کی پشت پر رکھا گیا تو اس کے ساتھ بھی اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا۔
اس واقعے کے بعد، خود اورنگ زیب نے علم کو ضبط کرنے کے بجائے اسے ایستادہ رکھنے کی اجازت دی۔ تاہم اتوار چوک کا عاشورخانہ محدود رقبے کا حامل ہونے کے باعث علم کو دارالشفا کی وسیع عمارت میںدوبارہ منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی۔روایت میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ بادشاہ نے اس مقصد سے علم کو دارالشفا منتقل کرنے کی اجازت دی کہ وسیع عمارت میں اسے زیادہ بہتر انداز میں ایستادہ کیا جا سکے اور علاقے کے لوگ اس سے منسوب فیض و برکت سے مستفید ہوں۔

الاوہ سرطوق نام کیسے پڑا؟
علمِ مبارک میں محفوظ طوق کےحصے کی نسبت سے اس عاشورخانے کو بعد میں الاوہ سرطوق کہا جانے لگا۔ موجودہ دارالشفا کی عمارت میں یہ علم آج بھی ایستادہ کیا جاتا ہے اور اسے حیدرآباد کے قدیم مذہبی ورثے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔تا ریخ دانوںکے مطابق طوق کا یہ حصہ آغا محسن خراسانی 1075 ہجری میں ملک شام سے حیدر آباد لا ئے تھے۔
اس وقت باد شاہ عبد اللہ قطب شاہ نے ایک علم بنوا کر اس تبرک کو علم میں محفوظ کیا۔

متولی خاندان کی تاریخی وابستگی
فر مان کے مطابق اورنگ زیب کے دور میں مرزا حشمت بیگ علمِ سرطوق کے متولی تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ متولی خاندان کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور خاندان کے افراد نسل در نسل خد مت کئے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔الاوہ سے اپنی وابستگی کا دعویٰ کرتے ہیں

الاوہ سرطوق سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس تاریخی مقام کی مذہبی اور ثقافتی حیثیت کو برقرار رکھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ مقام حیدرآباد کی صدیوں پرانی مشترکہ تاریخی میراث کا حصہ ہےموجودہ تنازع اور متولی خاندان کا مؤقف
مجاور مرحوم اسد علی بیگ کے فرزند کے مطابق بعض عناصر مبینہ طور پر الاوہ سرطوق پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ان کے خاندان کی موروثی خدمات ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک سیاسی شخصیت کو عبد اللہ قطب شاہ اور اورنگ زیب کے فرمان کو چھتہ بازار کے دستا ویزات کہہ رہا ہے۔جبکے دو نوں بادشاہوں کے فرمان موجود ہیں۔

۔علمِ سرطوق کی تاریخی اہمیت

الاوہ سرطوق سے منسوب روایات کے مطابق یہ علم قطب شاہی دور سے موجود ہے اور مختلف ادوار میں اس کی حفاظت اور ایستادگی کا سلسلہ جاری رہا۔ روایت میں یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اورنگ زیب نے 4رجب 1110ہجری کو جاری کئے گئے اپنے فرمان میں متدکرہ معجزات کا ذکر کیا ہے۔

پی ایم آئی کی جانب سے مومنین اور قارئین کی دلچسپی کے پیش نظر الاوہ سرطوق کی تاریخ، علمِ مبارک سے وابستہ روایات، تاریخی دستاویزات اور موجودہ انتظامی صورتحال کے حوالے سے مزید معلوماتی رپورٹس کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

افسوں کے چند شر پسند لوگ ایام عزا کے آخری دن چپ تعزیہ کے موقع پر ضریح مبارک خصرت امام حسن عسکری ؑ کے ہمراہ اوحہ خوانی کر نے والے نوحہ خوان پرحملہ کر کےانہیں زدکوب کر رہے ہیں۔ِجن کا مقصد شریفوں کو مار پیٹ کے ذریعہ اپنا دب دبا بنا ئے رکھنا ہے۔

برزگ حضرات نے بتا یا کے جس نے بھی الاوہ سر ؎وق کی حرمت کو پا مال کیا ہے انھیں انکی زندگی میں رسوائی ملی ہے۔ شیعہ برادری کا مطالبہ ہے کےپولیس ڈپارٹمنت کو چائیے کے وہ ایسے واقعات کا از خود نوٹ لیتے ہو ئے کار وائی کرے

۔نوٹ: علمِ سرطوق سے منسوب معجزے، اورنگ زیب کے فرمان اور دیگر واقعات کو اس رپورٹ میں تاریخی و مقامی روایات کے طور پر بیان کیا گیا ہے؛ ان کی حتمی تاریخی تصدیق کے لیے اصل فرامین، سرکاری ریکارڈ اور مستند تاریخی دستاویزات سا بق متو لی حشمت علی بیگ مرحوم کےموروثی متولی کے پاس محفوظ ہیں اس کے علا وہ مورخین نے بھی اپنی تحقیق اور کتا بوں میں درج کیا ہے۔(pressmediaofindia.com)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں