ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اپنا رویہ ’درست‘ کرنے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی

تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو اس وقت تک مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا جب تک امریکہ اپنی پالیسی تبدیل کرکے تہران کے مطالبات کو پورا نہیں کرتا۔

ہفتے کے روز ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ADNOC) کی ملکیت ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متنازع آبی گزرگاہ کے انتظام اور بحری آمدورفت کے حوالے سے عمان کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز کہا کہ عمان کے ساتھ مذاکرات ’’حتمی مراحل کے قریب‘‘ پہنچ چکے ہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ان مذاکرات کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی علامت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

دریں اثنا، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ کے سامنے کئی شرائط رکھی ہیں۔ تہران کا مطالبہ ہے کہ واشنگٹن ایران کو دھمکیاں دینا مستقل طور پر بند کرے، ناکہ بندی ختم کرے، خطے سے اپنی تمام فوجی تنصیبات اور اثاثے واپس بلائے، ایران پر عائد پابندیاں ختم کرے، منجمد ایرانی اثاثے بحال کرے اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس آبی راستے میں طویل رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

یہ تازہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے مستقبل سے متعلق معاملات حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ عمان ان مذاکرات میں ثالثی اور فریقین کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں