Sangareddy District Has Five Assembly Constituencies, Over 1.4 Million Voters; Muslim Population Around 16%
سنگاریڈی: تلنگانہ کے اہم اضلاع میں شامل سنگاریڈی میں موجودہ انتخابی حد بندی کے مطابق پانچ اسمبلی حلقے ہیں، جن میں نارائن کھیڑ، اندول (ایس سی)، ظہیرآباد (ایس سی)، سنگاریڈی اور پٹن چیرو شامل ہیں۔
2011 کی مردم شماری کے مطابق ضلع سنگاریڈی کی آبادی تقریباً 15.27 لاکھ تھی۔ دستیاب مذہب وار مردم شماری کے اعداد کے مطابق مسلمانوں کی آبادی ضلع کی مجموعی آبادی کا تقریباً 16 فیصد تھی، جو تقریباً 2.4 لاکھ بنتی ہے۔ تاہم یہ اعداد 2011 کے ہیں اور انہیں 2026 کی موجودہ آبادی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
2024 کے انتخابی ریکارڈ کے مطابق پانچوں اسمبلی حلقوں میں مجموعی طور پر تقریباً 14.12 لاکھ ووٹرز درج تھے۔ ان میں نارائن کھیڑ میں تقریباً 2.36 لاکھ، اندول میں 2.49 لاکھ، ظہیرآباد میں 2.73 لاکھ، سنگاریڈی میں 2.47 لاکھ اور پٹن چیرو میں تقریباً 4.07 لاکھ ووٹرز شامل تھے۔
2023 کے اسمبلی انتخابات میں نارائن کھیڑ اور اندول سے کانگریس امیدوار کامیاب ہوئے، جبکہ ظہیرآباد، سنگاریڈی اور پٹن چیرو میں بی آر ایس امیدوار کامیاب رہے۔
مسلم آبادی کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ ضلع کے تمام علاقوں میں آبادی کا تناسب یکساں نہیں ہے۔ بعض تحصیلی علاقوں میں مسلم آبادی ضلع کی اوسط سے زیادہ جبکہ بعض علاقوں میں کم ہے۔ اس لیے پورے ضلع کی مسلم آبادی کے فیصد کو براہِ راست ہر اسمبلی حلقے پر لاگو کرنا درست نہیں ہوگا۔
انتخابی تجزیے میں مسلم آبادی اور مسلم ووٹرز کو بھی الگ سمجھنا ضروری ہے۔ Census میں بچوں سمیت تمام افراد شامل ہوتے ہیں، جبکہ انتخابی فہرست میں صرف اہل ووٹرز شامل ہوتے ہیں۔
اس لیے سنگاریڈی کے موجودہ سیاسی و سماجی منظرنامے کا درست جائزہ لینے کے لیے Census 2011 کے مذہب وار اعداد، موجودہ انتخابی فہرست، منڈل وار آبادی اور اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا تقابلی مطالعہ ضروری ہے۔
Sangareddy District: Five Assembly Constituencies and Over 14 Lakh Voters
Sangareddy district has five Assembly constituencies—Narayankhed, Andole (SC), Zaheerabad (SC), Sangareddy and Patancheru. According to 2024 electoral data, the five constituencies together had around 14.12 lakh registered voters. Census 2011 data indicates that Muslims constituted around 16% of the district’s population. However, constituency-wise Muslim voter figures require detailed electoral and Census data and should not be inferred simply from the district-wide percentage.


















