یوگی آدتیہ ناتھ نے انتخابی مہم کی کمان سنبھال لی، اکھلیش یادو نے آخری وقت میں دو امیدوار تبدیل کیے
لکھنؤ، 14 اکتوبر (پی ایم آئی): اتر پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل قانون ساز کونسل (ایم ایل سی) کی 11 نشستوں پر ہونے والے انتخابات نے ریاست کی سیاسی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کردی ہے۔ اساتذہ اور گریجویٹ حلقوں کی ان نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے اپنی انتخابی حکمت عملی تیز کردی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ انتخابی مہم میں سرگرم ہیں، جبکہ سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے آخری وقت میں دو امیدواروں کو تبدیل کرکے مقابلے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔
سیاسی حلقوں میں ان انتخابات کو دونوں جماعتوں کے لیے آئندہ اسمبلی انتخابات سے پہلے اپنی تنظیمی طاقت، امیدواروں کے انتخاب اور ووٹروں تک رسائی کا جائزہ لینے کا ایک اہم موقع قرار دیا جارہا ہے۔ تاہم، ان نشستوں کے نتائج کو ریاست کے مجموعی عوامی رجحان کا حتمی پیمانہ نہیں سمجھا جاسکتا۔
یوگی کی انتخابی مہم، اکھلیش کی نئی حکمت عملی
لوک سبھا انتخابات کے بعد اتر پردیش میں بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کے درمیان سیاسی مقابلہ مزید اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ بی جے پی ان انتخابات میں بہتر کارکردگی کے ذریعے اپنی سیاسی برتری ثابت کرنا چاہتی ہے، جبکہ سماج وادی پارٹی اپنی حمایت کو مستحکم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور اور بریلی کے بعد وارانسی میں بھی عوامی جلسوں کے ذریعے انتخابی مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں کو بی جے پی کی جانب سے ان نشستوں کو اہمیت دینے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
دوسری جانب، اکھلیش یادو کی جانب سے آخری وقت میں دو امیدواروں کی تبدیلی کو سماج وادی پارٹی کی انتخابی حکمت عملی میں اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔ پارٹی کو امید ہے کہ امیدواروں میں تبدیلی سے انتخابی مقابلے میں اس کی پوزیشن بہتر ہوسکتی ہے۔
بیلٹ پیپر سے ووٹنگ، ای وی ایم پر بحث پھر موضوعِ گفتگو
ان انتخابات کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ووٹنگ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے بجائے بیلٹ پیپر کے ذریعے ہوگی۔ اسی وجہ سے یہ انتخابات ای وی ایم سے متعلق سیاسی بحث کے تناظر میں بھی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
اگر بی جے پی ان انتخابات میں اچھی کارکردگی دکھاتی ہے تو وہ اسے اپنی سیاسی مقبولیت کے حق میں پیش کرسکتی ہے۔ اسی طرح سماج وادی پارٹی کی بہتر کارکردگی اسے اپنی انتخابی حکمت عملی اور حمایت کے بارے میں سیاسی دعوے کرنے کا موقع فراہم کرسکتی ہے۔
تاہم، صرف ان نتائج کی بنیاد پر ای وی ایم سے متعلق الزامات کی صداقت یا عدم صداقت کا حتمی فیصلہ کرنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ بیلٹ پیپر اور ای وی ایم کے ذریعے ہونے والے انتخابات میں ووٹروں کی نوعیت، انتخابی حلقوں اور دیگر حالات میں فرق ہوسکتا ہے۔
تعلیم یافتہ ووٹرز کے رجحانات پر بھی نظر
ایم ایل سی کی ان نشستوں پر متعلقہ گریجویٹ اور اساتذہ حلقوں کے رجسٹرڈ ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے ان انتخابات کے نتائج سے تعلیم یافتہ اور پیشہ ور طبقے کے سیاسی رجحانات کا ایک محدود اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
جو جماعت بہتر کارکردگی دکھائے گی، وہ اسے متعلقہ ووٹرز کی حمایت کے طور پر پیش کرسکتی ہے۔ تاہم، ان مخصوص حلقوں کے نتائج کو ریاست کے تمام طبقات اور ووٹرز کی سیاسی رائے کا مکمل عکاس قرار نہیں دیا جاسکتا۔
تمام 75 اضلاع تک پھیلے انتخابی حلقے
اگرچہ ایم ایل سی کی 11 نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں، لیکن متعلقہ انتخابی حلقے اتر پردیش کے تمام 75 اضلاع تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان انتخابات پر ریاست کی دونوں بڑی جماعتوں کی خصوصی توجہ مرکوز ہے۔
آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل یہ مقابلہ بی جے پی اور سماج وادی پارٹی کو اپنی تنظیمی صلاحیت، امیدواروں کی مقبولیت اور انتخابی تیاریوں کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرے گا۔ ان نتائج سے دونوں جماعتوں کی حکمت عملی کے بعض پہلو سامنے آسکتے ہیں، لیکن اسمبلی انتخابات کے وسیع تر سماجی، معاشی اور سیاسی عوامل کو دیکھتے ہوئے ایم ایل سی انتخابات کے نتائج کو ریاست کے حتمی عوامی رجحان کا پیمانہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔


















