-ہائی بلڈ پریشر کم کرنے میں مددگار 18 غذائیں، جانیں یہ کیسے کام کرتی ہیں
ماش کی دال، مسور کی دال اور چنے جیسی دالیں اور پھلیاں پروٹین اور فائبر سے بھرپور ہوتی ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر صحت کا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جو لاکھوں افراد کی صحت کو متاثر کرنے کے ساتھ دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR) اور عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے حوالے سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، بھارت میں ہر چار بالغ افراد میں سے ایک ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے۔ زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ متاثرہ افراد میں سے نصف سے زیادہ کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اس مرض میں مبتلا ہیں۔
ناقص غذا، غیر صحت بخش طرزِ زندگی، ذہنی دباؤ اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
اگر ہائی بلڈ پریشر کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ دل، گردوں اور دماغ کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تاہم، طبی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ غذائی عادات میں تبدیلی اور مناسب ادویات کے ذریعے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس رپورٹ میں ایسی 18 غذاؤں کا ذکر کیا گیا ہے جو بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے اور دل کی صحت بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مددگار 18 غذائیں
1۔ بیریز
بلیو بیریز اور اسٹرابیری جیسی بیریز میں ’انتھوسائنن‘ نامی طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ پایا جاتا ہے۔ یہ خون کی نالیوں کی لچک برقرار رکھنے اور شریانوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔ ان پھلوں کو ناشتے یا ہلکی پھلکی غذا کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
2۔ کیلے
کیلے پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں۔ پوٹاشیم جسم میں سوڈیم یعنی نمک کے مضر اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ روزانہ ایک کیلا کھانا بلڈ پریشر کو صحت مند سطح پر رکھنے کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔
3۔ چقندر
چقندر میں قدرتی طور پر نائٹریٹس پائے جاتے ہیں، جو جسم میں ہضم ہونے کے بعد نائٹرک آکسائیڈ کی تیاری میں مدد دیتے ہیں۔ نائٹرک آکسائیڈ خون کی نالیوں کو پھیلانے اور خون کی روانی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس طرح چقندر بلڈ پریشر کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
4۔ ڈارک چاکلیٹ
ڈارک چاکلیٹ، خصوصاً ایسی چاکلیٹ جس میں کوکو کی مقدار زیادہ اور اضافی چینی کم ہو، فلیوونائڈز نامی مفید مرکبات پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ مرکبات خون کی نالیوں کی صحت بہتر بنانے اور بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ تاہم، زیادہ کیلوریز کے باعث اسے اعتدال میں کھانا چاہیے۔
5۔ کیوی پھل
تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روزانہ دو کیوی پھل کھانے سے سسٹولک بلڈ پریشر یعنی اوپری بلڈ پریشر میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ کیوی وٹامن سی سے بھی بھرپور ہوتا ہے، جو جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
6۔ تربوز
تربوز میں ’سائٹرولین‘ نامی امینو ایسڈ پایا جاتا ہے، جسے جسم ارجینائن میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ عمل نائٹرک آکسائیڈ کی تیاری میں مدد دیتا ہے، جس سے خون کی نالیوں کو آرام مل سکتا ہے۔ تربوز گرمیوں میں جسم میں پانی کی کمی دور کرنے کے ساتھ بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں بھی معاون ہو سکتا ہے۔
7۔ جئی (اوٹس)
جئی میں حل پذیر فائبر پایا جاتا ہے، جسے بیٹا گلوکن کہا جاتا ہے۔ یہ خون میں کولیسٹرول کی سطح کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور دل کی صحت کے لیے مفید ہے۔ ناشتے میں جئی کو شامل کرنا صحت مند غذا کا ایک اچھا انتخاب ہے۔
8۔ سبز پتوں والی سبزیاں
پالک، کیل اور کولارڈ جیسی سبز پتوں والی سبزیوں میں نائٹریٹس اور پوٹاشیم پائے جاتے ہیں۔ ان سبزیوں کو ہفتے میں تین سے چار دن اپنی خوراک میں شامل کرنے سے بلڈ پریشر کو صحت مند سطح پر برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
9۔ لہسن
لہسن میں ’ایلیسن‘ نامی مرکب پایا جاتا ہے، جس میں مختلف مفید حیاتیاتی خصوصیات موجود ہوتی ہیں۔ کھانے میں لہسن کا باقاعدہ استعمال خون کی گردش بہتر بنانے اور شریانوں کی صحت برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ بعض تحقیقات کے مطابق لہسن کی مخصوص تیاریاں بلڈ پریشر کم کرنے میں بھی معاون ہو سکتی ہیں۔
10۔ خمیر شدہ غذائیں
دہی اور ساورکراٹ جیسی خمیر شدہ غذاؤں میں مفید بیکٹیریا پائے جاتے ہیں، جنہیں پروبائیوٹکس کہا جاتا ہے۔ یہ آنتوں کی صحت بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں اور بالواسطہ طور پر بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں بھی معاون ہو سکتے ہیں۔
ایپل سائڈر سرکہ کا بھی بعض اوقات اس سلسلے میں ذکر کیا جاتا ہے، تاہم بلڈ پریشر کم کرنے میں اس کے فوائد کے شواہد محدود ہیں۔
11۔ دالیں اور پھلیاں
ماش کی دال، مسور کی دال اور چنے پروٹین اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں۔ انہیں روزمرہ کی خوراک میں شامل کرنے سے مجموعی قلبی صحت بہتر بنانے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
12۔ دہی
بغیر چینی کا دہی اور چھاچھ صحت مند غذا کا اہم حصہ ہیں۔ ان میں کیلشیم اور بعض اقسام میں مفید پروبائیوٹکس پائے جاتے ہیں، جو مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ کم چکنائی اور کم نمک والی مصنوعات کا انتخاب کرنا بہتر ہے۔
13۔ انار
انار میں اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں، جو خون کی نالیوں کو نقصان سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ بعض تحقیقات کے مطابق انار کے جوس کا باقاعدہ استعمال سسٹولک اور ڈائسٹولک، دونوں طرح کے بلڈ پریشر میں کمی لانے میں معاون ہو سکتا ہے۔ تاہم، خاص طور پر ذیابیطس کے مریضوں کو جوس کا استعمال اعتدال میں کرنا چاہیے۔
14۔ دارچینی
دارچینی عام طور پر کھانوں اور مشروبات میں استعمال کی جاتی ہے۔ اس میں موجود بعض مرکبات خون میں شکر کی سطح کو بہتر بنانے اور ممکنہ طور پر بلڈ پریشر میں معمولی کمی لانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ چائے یا ناشتے میں تھوڑی سی دارچینی شامل کی جا سکتی ہے، لیکن اسے علاج یا دوا کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
15۔ گری دار میوے
اخروٹ، پستہ اور بادام صحت مند چکنائی، میگنیشیم اور دیگر مفید غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں۔ روزانہ مٹھی بھر بغیر نمک کے گری دار میوے کھانے سے دل کی صحت بہتر بنانے اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
16۔ ترش پھل
سنگترے، نارنگی، لیموں اور گریپ فروٹ جیسے ترش پھل وٹامن سی اور دیگر مفید نباتاتی مرکبات سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ان میں بعض اقسام میں ’ہیسپریڈین‘ نامی اینٹی آکسیڈنٹ بھی پایا جاتا ہے۔ ان پھلوں کا استعمال خون کی نالیوں کی صحت برقرار رکھنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔
تاہم، گریپ فروٹ بعض ادویات کے ساتھ ردِعمل پیدا کر سکتا ہے، اس لیے ایسی دوائیں استعمال کرنے والے افراد کو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
17۔ چکنائی والی مچھلی
سارڈین، میکریل اور ٹونا جیسی مچھلیوں میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں۔ ہفتے میں تقریباً دو مرتبہ مچھلی کھانا دل کی صحت بہتر بنانے اور قلبی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ مچھلی پکاتے وقت نمک اور غیر صحت بخش چکنائی کا استعمال کم رکھنا بہتر ہے۔
18۔ ٹماٹر
ٹماٹر میں ’لائیکوپین‘ نامی اینٹی آکسیڈنٹ پایا جاتا ہے، جو دل کی صحت کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ ٹماٹر کا گاڑھا پیسٹ اور ٹماٹر سے تیار کردہ بعض غذائیں بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں معاون ہو سکتی ہیں۔ تاہم، پیک شدہ مصنوعات خریدتے وقت ان میں سوڈیم یا نمک کی مقدار ضرور دیکھیں۔
غذا اور طرزِ زندگی میں ضروری تبدیلیاں
نمک کا استعمال کم کریں
کھانا پکاتے وقت نمک کی مقدار کم رکھنا ہائی بلڈ پریشر پر قابو پانے کا ایک اہم قدم ہے۔ اچار، پاپڑ، نمکین خشک مچھلی اور دیگر زیادہ نمک والی غذاؤں کا استعمال محدود کریں۔ سوڈیم کی زیادتی بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
پیک شدہ اور پراسیسڈ غذاؤں سے پرہیز کریں
پیک شدہ اسنیکس، فوری تیار ہونے والے کھانے اور دیگر پراسیسڈ غذاؤں میں اکثر سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ ایسی اشیا خریدنے سے پہلے ان کے غذائی لیبل پر نمک کی مقدار ضرور دیکھیں۔
کافی اور الکحل کے استعمال پر نظر رکھیں
کافی میں موجود کیفین بعض افراد میں عارضی طور پر بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح الکحل کا زیادہ استعمال بھی بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ مجموعی صحت کے لیے الکحل سے پرہیز یا اس کے استعمال کو محدود کرنا مفید ہے۔
بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں
غذائی تبدیلیوں کے ساتھ طرزِ زندگی میں بہتری بھی ہائی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے درج ذیل اقدامات مفید ہو سکتے ہیں:
روزانہ کم از کم 30 منٹ چہل قدمی کریں، بشرطیکہ صحت اس کی اجازت دے۔
باقاعدگی سے جسمانی ورزش کریں۔
ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے مراقبہ، آرام کی مشقیں یا سانس لینے کی مخصوص مشقیں اپنائیں۔
سگریٹ نوشی مکمل طور پر ترک کر دیں۔
جسمانی وزن کو صحت مند سطح پر برقرار رکھیں۔
بلڈ پریشر کی باقاعدگی سے جانچ کروائیں اور ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کریں۔
پھلوں، سبزیوں، ثابت اناج، دالوں، گری دار میووں اور دیگر غذائیت سے بھرپور اشیا پر مشتمل متوازن غذا بلڈ پریشر کو صحت مند سطح پر رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ نمک کا استعمال کم کرنا، پراسیسڈ غذاؤں سے پرہیز اور جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
اہم طبی ہدایت: یہ غذائیں بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں معاون ہو سکتی ہیں، لیکن ان کا استعمال ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات یا طبی علاج کا متبادل نہیں ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کے مریض اپنے بلڈ پریشر کی باقاعدگی سے جانچ کروائیں اور علاج میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے مستند ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔


















