وقف املاک کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام اور شفاف تحقیقات ضروری
حیدرآباد، 12 اکتوبر (پی ایم آئی): شیعہ مسلم فاؤنڈیشن نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وقف املاک کے تحفظ اور ان پر مبینہ غیر قانونی قبضوں کی روک تھام کے لیے ایک مؤثر اور شفاف نظام قائم کیا جائے، تاکہ وقف اثاثوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا سکے اور مبینہ تجاوزات و غیر مجاز استعمال کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔اس سلسلے میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ جس طرح سرکاری ادارے سرکاری اراضی کے تحفظ اور تجاوزات کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، اسی طرح وقف املاک کے معاملات کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) بھی تشکیل دی جائے۔ اس ٹیم کی سربرا کسی سینئر آئی پی ایس آفیسر کو مقرر کیا جائے۔ تاکہ وقف املاک سے متعلق شکایات، دستاویزات، مبینہ قبضوں اور دیگر مسائل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جا سکے۔
شیعہ مسلم فاؤنڈیشن کے صدر نجف علی شوکت ’ نائب صدرمیر حیدر علی رضوی’اور جنرل سکریٹری ذیشان عباس کی جانب سے
۔مزید یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ حکومت وقف املاک کے تحفظ کے لیے HYDRAA کی طرز پر ایک علحدہ اور بااختیار محکمہ قائم کرنے پر غور کرے۔ یہ ادارہ مبینہ غیر قانونی قبضوں کی نشاندہی، وقف اراضی کی بازیابی اور ذمہ دار پائے جانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر سکتا ہے۔تاہم تمام اقدامات قانونی طریقۂ کار کے مطابق انجام دیے جائیں۔
۔تجویز کے مطابق، اگر کسی وقف جائیداد پر غیر قانونی قبضہ یا غیر مجاز تعمیرات ثابت ہو جائیں تو متعلقہ قوانین اور عدالتی احکامات کی روشنی میں کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی کسی بھی فرد کے خلاف کارروائی سے قبل اسے مقررہ قانونی طریقۂ کار کے تحت اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع بھی فراہم کیا جائے۔
اس کے علاوہ ایس ایم ایف کی جانب سے ایسے متولیوں کے طرزِ عمل کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، جن پر وقف اراضی یا جائیداد کی مبینہ غیر قانونی منتقلی یا فروخت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ایسے معاملات میں متعلقہ دستاویزات، رجسٹریشن ریکارڈ اور وقف کے سرکاری ریکارڈ کی مکمل جانچ ضروری قرار دی گئی ہے۔ اگر کسی لین دین کو غیر قانونی پایا جائے تو قانون کے مطابق متعلقہ رجسٹریشن یا منتقلی کو منسوخ کرنے سمیت دیگر قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
وقف بورڈ کے بعض عہدیداروں، ارکان، ملازمین اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف بھی وقتاً فوقتاً مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات اور سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ تاہم ان الزامات کو ثابت شدہ حقائق تصور کرنے کے بجائے آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور دستاویزی شواہد پر مبنی تحقیقات کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اگر تحقیقات کے دوران کسی خلاف ورزی کی تصدیق ہو جائے تو ذمہ دار افراد کے خلاف
قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔اسی طرح بعض سماجی، سیاسی اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے وقف املاک کے تحفظ کے معاملات میں مختلف افراد اور اداروں کے کردار یا خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تاہم کسی بھی فرد یا تنظیم کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے قبل قابلِ اعتماد شواہد اور متعلقہ حکام کی تحقیقات کے نتائج کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔
وقف املاک کے مؤثر تحفظ کے لیے قانونی ماہرین، وقف ریکارڈ کے ماہرین، متعلقہ سرکاری محکموں اور سماجی نمائندوں سے مشاورت کے ذریعے ایک جامع اور شفاف حکمتِ عملی تیار کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس حکمتِ عملی میں عوامی شکایات کے اندراج کے لیے واضح طریقۂ کار، وقف ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنا، اراضی کے باقاعدہ سروے اور مبینہ تجاوزات کی نشاندہی جیسے اقدامات شامل کیے جا سکتے ہیں۔
ایس ایم ایف قا ئدین نے کہا کے اگر حکو مت وقف املاک کے تحفظ میں سنجیدہ ہے تو بلا تا خیر متذکرہ تجا ویز پر عملی اقدامات کرے۔(pressmediaofindia.com)


















