ابراہیم پٹنم کے رکن اسمبلی ملریڈی رنگا ریڈی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج

حیدرآباد، 9 اکتوبر (پی ایم آئی): ابراہیم پٹنم پولیس نے کانگریس کے رکن اسمبلی ملریڈی رنگا ریڈی سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے معاملے میں نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ویڈیو میں رکن اسمبلی کو بس میں سفر کے دوران ایک خاتون کو مبینہ طور پر چھوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے ویڈیو پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق، ابراہیم پٹنم یوتھ کانگریس کے صدر وی سکندر ریڈی نے 7 اکتوبر کو پولیس سے شکایت کی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ویڈیو کو اس کے مکمل پس منظر کے بغیر سوشل میڈیا پر پھیلایا جا رہا ہے، جس سے رکن اسمبلی کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

شکایت کی بنیاد پر پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 353(2)، دفعہ 336(4) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 67 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ ان دفعات کا تعلق مبینہ طور پر عوامی بدامنی کو ہوا دینے والے بیانات، کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی نیت سے جعل سازی اور الیکٹرانک ذرائع سے قابل اعتراض مواد کی اشاعت سے ہے۔ ان دفعات کا اطلاق اور معاملے کی قانونی حیثیت تحقیقات اور قانونی کارروائی کے دوران طے ہوگی۔

سکندر ریڈی کے مطابق، رکن اسمبلی ملریڈی رنگا ریڈی نے تلنگانہ حکومت کی خواتین کے لیے مفت بس سفر کی اسکیم، ’’مہالکشمی‘‘ کے نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے آؤٹر رنگ روڈ (او آر آر) پر چلنے والی ایک بس میں سفر کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ابراہیم پٹنم تعلیمی اداروں کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں بڑی تعداد میں طلبہ اور خواتین اس اسکیم سے استفادہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، رکن اسمبلی نے سفر کے دوران بس میں موجود مسافروں سے بات چیت کی اور بعض مسافروں نے ان کا خیرمقدم بھی کیا۔

یوتھ کانگریس کے صدر نے دعویٰ کیا کہ بس کے موڑ لینے کے دوران خاتون سے رکن اسمبلی کا جسمانی رابطہ اتفاقاً ہوا تھا۔ انہوں نے بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) سے وابستہ افراد پر الزام لگایا کہ ویڈیو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا، جس سے رکن اسمبلی کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔

معاملے کا پس منظر

یہ تنازع 6 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد پیدا ہوا، جس میں 70 سالہ رکن اسمبلی کو مہالکشمی اسکیم کے نفاذ کا جائزہ لینے کے دوران تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ٹی جی ایس آر ٹی سی) کی بس میں ایک طالبہ سے بات چیت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، بات چیت کے دوران طالبہ نے رکن اسمبلی کو بتایا کہ اس اسکیم کے ذریعے کالج آنے جانے کے اخراجات میں اسے سالانہ تقریباً 45 ہزار روپے کی بچت ہو رہی ہے۔

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد واقعے اور اس کے پس منظر کے حوالے سے تنازع پیدا ہوگیا۔

پولیس نے فی الحال ویڈیو کی مبینہ تشہیر کے سلسلے میں مقدمہ درج کیا ہے۔ ویڈیو میں دکھائے گئے واقعے اور متعلقہ افراد کے کردار کے بارے میں حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے اور قانونی عمل کے بعد ہی اخذ کیا جاسکے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں