دستورِ ہند میں آرٹیکل 25 اور 26 مذہبی آزادی سے متعلق بنیادی حقوق فراہم کرتے ہیں۔

آرٹیکل 25 — مذہب کی آزادی

آرٹیکل 25 کے تحت ہر شخص کو ضمیر کی آزادی اور اپنے مذہب کو:

ماننے (profess)
اس پر عمل کرنے (practice)
اس کی تبلیغ کرنے (propagate)

کا حق حاصل ہے۔

تاہم یہ حق مطلق نہیں ہے۔ ریاست عوامی نظم و ضبط (public order)، اخلاقیات (morality)، صحتِ عامہ (health) اور دستور کی دیگر بنیادی دفعات کے تابع رہتے ہوئے اس پر قانونی پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔

آرٹیکل 26 — مذہبی امور کے انتظام کی آزادی

آرٹیکل 26 مذہبی فرقوں یا مذہبی گروہوں کو بعض حقوق دیتا ہے۔ انہیں، قانون کے تحت:

مذہبی و خیراتی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا حق ہے۔
اپنے مذہبی معاملات کا انتظام خود کرنے کا حق ہے۔
منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد رکھنے اور حاصل کرنے کا حق ہے۔
ایسی جائیداد کا انتظام قانون کے مطابق کرنے کا حق ہے۔

یہ حقوق بھی عوامی نظم و ضبط، اخلاقیات اور صحتِ عامہ کے تابع ہیں۔

آسان الفاظ میں

آرٹیکل 25 بنیادی طور پر فرد کی مذہبی آزادی سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 26 مذہبی فرقوں اور اداروں کو اپنے مذہبی معاملات چلانے کے حقوق سے متعلق ہے۔

اسی لیے وندے ماترم سے متعلق موجودہ قانونی بحث میں آرٹیکل 25 کا ضمیر اور مذہبی آزادی والا پہلو خاص اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم، کسی مخصوص مقدمے میں ان دفعات کا اطلاق عدالت کے حتمی فیصلے پر منحصر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں