لکھنؤ، 29 اکتوبر (پی ایم آئی): اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے سرکاری ملازمتوں کے لیے امیدواروں کی کردار کی تصدیق (کریکٹر ویریفکیشن) کے ضوابط میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث پائے جانے والے بعض امیدواروں کو سرکاری ملازمت کے لیے نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔
ریاست کے محکمہ ٹرانسپورٹ و تقرری کے پرنسپل سکریٹری ایم دیوراج کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، حکومت کی تبدیلی یا اسے گرانے کے لیے پرتشدد طریقے اختیار کرنے والے احتجاج میں حصہ لینے والوں اور ایسی سرگرمیوں سے وابستہ تنظیموں کے ارکان کے لیے سرکاری ملازمت کے حصول پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ حکومت کے مطابق، الہ آباد ہائی کورٹ کی ہدایات کے تناظر میں مرتب کیے گئے یہ ضوابط ریاستی حکومت کے محکموں، کارپوریشنوں، بورڈوں اور مقامی اداروں میں براہِ راست بھرتیوں پر لاگو ہوں گے۔
نئے قواعد کے تحت 21 سال سے زیادہ عمر کے ایسے امیدواروں کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے جن کے بارے میں تصدیق کی تاریخ سے قبل تین سال کے دوران پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی تصدیق ہو۔ تاہم، محض کسی سیاسی نظریے سے وابستگی، ایف آئی آر کے اندراج یا پولیس تحقیقات زیرِ التوا ہونے کی بنیاد پر کسی امیدوار کو نااہل قرار نہیں دیا جا سکے گا۔
عدالت سے بری ہونے والے افراد، سمجھوتے کے ذریعے طے پانے والے مقدمات اور جووینائل جسٹس ایکٹ کے دائرے میں آنے والے معاملات پر بھی یہ نااہلی کی شرائط لاگو نہیں ہوں گی۔ امیدواروں سے خود اعلانیہ بیان حاصل کرنے کے بعد عارضی تقرری نامے جاری کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم، تصدیق کے دوران غلط معلومات فراہم کرنے کا معاملہ سامنے آنے پر ملازمت ختم کرنے اور قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ان ہدایات پر سماج وادی پارٹی اور کانگریس نے اعتراضات ظاہر کیے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے ترجمان ادے ویر نے ان ضوابط پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ برطانوی دور کے آمرانہ طرزِ حکمرانی کی یاد دلاتے ہیں۔ ان کے مطابق، جمہوریت میں پُرامن احتجاج آئینی حق ہے اور انتخابات کے ذریعے حکومت کی تبدیلی جمہوری عمل کا حصہ ہے۔
کانگریس لیڈر راشد علوی نے بھی ان ہدایات پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایسے معاملات میں عدالتی کردار ادا کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو نوجوانوں، خصوصاً جنریشن زی (Gen-Z)، کے احتجاج کے حوالے سے اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔
نئی ہدایات کے مطابق پولیس اور لوکل انٹیلی جنس یونٹ (ایل آئی یو) کو تصدیق کی درخواست موصول ہونے کے 30 دن کے اندر رپورٹ متعلقہ تقرری اتھارٹی کو پیش کرنی ہوگی۔ امیدواروں کے گھروں کا دورہ کرنا لازمی نہیں ہوگا اور نہ ہی جسمانی حاضری ضروری ہوگی۔
اگر کسی امیدوار کے خلاف منفی رپورٹ موصول ہوتی ہے تو ضلع مجسٹریٹ کو اسے آن لائن یا ذاتی طور پر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دینا ہوگا۔ یہ نئی ہدایات پہلے سے سرکاری خدمات انجام دینے والے ملازمین پر لاگو نہیں ہوں گی۔(pressmediaofindia.com)جہ


















