تہران، 3 نومبر -: ایران کی سپریم کورٹ نے ملک گیر حکومت مخالف احتجاج کے سلسلے میں سزا یافتہ ایک پھل فروش کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا ہے۔ امریکہ میں قائم ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے یہ اطلاع دی ہے۔
ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA)، جو ایران میں ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس کی میڈیا شاخ ہے، نے پیر کے روز اطلاع دی کہ سپریم کورٹ نے آرمان معروفی (Arman Marefati) کے خلاف سنائی گئی سزائے موت کی توثیق کردی ہے۔ تنظیم کے مطابق احتجاج کے دوران گرفتار کی گئی دو خواتین مظاہرین کو مجموعی طور پر 44 سال قید کی سزائیں بھی سنائی گئی ہیں۔
آرمان معروفی کو مارچ 2026 میں تہران کی ایک اسلامی انقلابی عدالت نے مجرم قرار دیا تھا۔ ان پر قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں مبینہ طور پر حصہ لینے، مذہبی مقامات کو تباہ کرنے کی نیت سے وہاں داخل ہونے اور ایک مسجد و دینی مدرسے کو نذرِ آتش کرنے میں ملوث ہونے جیسے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
HRANA کے مطابق معروفی کو جون میں گریٹر تہران جیل سے کرج کی قزل حصار جیل منتقل کردیا گیا تھا، جہاں سیاسی قیدیوں اور سزائے موت کے منتظر قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔
اس مقدمے میں ان کے دو دیگر شریک ملزمین، مہرداد محمدیانیا اور اشکان ملکی کو بھی جون میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ انہیں اسرائیل اور دشمن حکومتوں کے ساتھ مبینہ تعاون، عدم تحفظ اور عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور نذرِ آتش کرنے اور قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لینے کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ ان دونوں کی پھانسی سے قبل ان کے اہل خانہ یا وکلاء کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
HRANA کے مطابق تقریباً 38 سالہ آرمان معروفی کا تعلق ایران کے مغربی علاقے سقز کاؤنٹی سے ہے۔ وہ تہران میں مقیم تھے اور جنوری 2026 میں ملک گیر احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے تھے۔ وہ پھل اور سبزیوں کی ایک مارکیٹ میں کام کرتے تھے۔
پھانسیوں پر عالمی سطح پر تشویش
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ستمبر کے اوائل میں ایرانی حکام پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مظاہرین کے خلاف کارروائیوں، ہلاکتوں اور پھانسیوں کے ذریعے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ انہوں نے ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی 2026 کی انسانی حقوق رپورٹ میں بھی مظاہرین اور حکومت کے مخالفین کو قومی سلامتی سے متعلق الزامات کے تحت سزائے موت سنائے جانے پر تنقید کی ہے۔ ان الزامات میں ایران میں رائج قانونی اصطلاح ’’محاربہ‘‘ (اللہ سے جنگ یا خدا کے خلاف دشمنی) اور بیرونی ممالک کے ساتھ مبینہ تعاون جیسے جرائم شامل ہیں۔
ایران میں ہزاروں افراد نے ان احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا تھا، جو گزشتہ سال کے اواخر میں شروع ہوئے اور 2026 میں بھی جاری رہے۔ ان مظاہروں کی ابتدائی وجہ معاشی مشکلات، بالخصوص ایرانی کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ تھی۔ تاہم، بعد میں مظاہرین نے اسلامی جمہوری نظام کے خاتمے کے مطالبات بھی پیش کرنا شروع کردیے۔
صدر ٹرمپ نے ستمبر میں عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے رواں سال اپنے 72 ہزار شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے احتجاج سے متعلق ہلاکتوں کی تعداد 3,038 بتائی ہے۔ تاہم، اقوام متحدہ کے ایک حالیہ تحقیقاتی مشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ اصل ہلاکتوں کی تعداد ایرانی حکومت کی جانب سے بتائے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
انسانی حقوق تنظیموں کے منصفانہ عدالتی کارروائی پر سوالات
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل ایرانی حکام پر الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ وہ زیر حراست افراد سے اعترافِ جرم کرانے کے لیے مبینہ طور پر تشدد، طویل مدت تک تنہائی میں قید رکھنے اور دیگر دباؤ کے طریقے استعمال کرتے ہیں۔ ان تنظیموں کے مطابق ایسے اعترافات کو بعد ازاں عدالتی کارروائیوں میں ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ ان مقدمات میں بھی جن میں سزائے موت سنائی جاسکتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے عدالتی کارروائیوں کی شفافیت پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق بعض مقدمات میں مبینہ طور پر جبری اعترافات، مبہم یا سیاسی نوعیت کے قومی سلامتی سے متعلق الزامات اور ایسے دعوؤں کی بنیاد پر فیصلے سنائے جاتے ہیں جن کے حق میں قابلِ اعتماد شواہد موجود نہیں ہوتے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایسے واقعات کی نشاندہی بھی کی ہے جن میں ملزمین کو مبینہ طور پر وکیل تک مؤثر رسائی اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا۔
ان خدشات کے باعث ایران کے عدالتی نظام پر بین الاقوامی نگرانی اور تنقید میں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً ان افراد کو سزائے موت دینے کے معاملے میں جنہیں احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا یا حکومت کی مخالفت کے الزامات کا سامنا ہے۔


















