’عمر بڑھ گئی ہے،۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں اگلے انتخابات میں حصہ لوں گا یا نہیں۔ اکبر الدین اویسی

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے قانون ساز اسمبلی میں فلور لیڈر اکبر الدین اویسی کے سیاسی مستقبل سے متعلق تازہ بیان نے بالخصوص پرانے شہر کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

جمعہ کی رات بندلہ گوڑہ کے فاطمہ کالج میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اکبر الدین اویسی نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ وہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں حصہ لیں گے یا نہیں۔

انہوں نے کہا، ’’میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں اگلے انتخابات میں حصہ لوں گا یا نہیں۔ دراصل، میں انتخابات لڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہا ہوں۔ میں انتخابات نہیں لڑوں گا۔‘‘

ان کے اس بیان کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پرانے شہر کی سیاست میں ان کا ایک نمایاں کردار رہا ہے اور وہ اے آئی ایم آئی ایم کے اہم قائدین میں شمار ہوتے ہیں۔

پروگرام کے دوران اکبر الدین اویسی نے اپنی تعلیمی قابلیت اور سیاسی سفر کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا۔ اپنی تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اگرچہ میں نے صرف بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے، لیکن میں عملی سیاست اور عوامی زندگی میں اس مقام تک پہنچا ہوں کہ چیف منسٹر کو بھی میری بات کا جواب دینا پڑتا ہے۔‘‘

انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے طلبہ کو اعتماد، عزم اور مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب بھی دی۔

اکبر الدین اویسی کے آئندہ اسمبلی انتخابات سے دور رہنے کے امکان نے ان کے بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ پرانے شہر کی سیاست میں ان کی طویل عرصے سے موجودگی اور اے آئی ایم آئی ایم میں ان کے اہم کردار کے پیش نظر یہ سوال بھی زیرِ بحث آنے لگا ہے کہ اگر وہ بالآخر انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان کی جگہ پارٹی کی جانب سے کس امیدوار کو موقع دیا جائے گا۔(pressmediaofindia.com)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں