کوہِ امام ضامنؒ کی اراضی پر سوالات: 82 ایکڑ 27 گنٹے کا ریکارڈ، قبضوں کے الزامات اور ہائی کورٹ کا فیصلہ

“کوہِ امام ضامنؒ کی اراضی کی اصل صورتحال کا حتمی تعین دعوؤں یا اندازوں سے نہیں بلکہ تازہ سرکاری سروے، مستند اراضی ریکارڈ اور عدالتی احکامات کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔”

“82 ایکڑ 27 گنٹے کوہِ امام ضامنؒ کی اراضی کی حقیقی صورتحال کے تعین کے لیے تازہ سرکاری سروے اور مستند اراضی ریکارڈ ناگزیر ہیں

حیدر آباد 19 ستمبر ( نجف علی شوکت ۔پی ایم آئی) سکندرآباد کے اموگوڑہ، تریملگیری میں واقع تاریخی کوہِ امام ضامنؒ کا مزار اور اس سے متصل اراضی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ وقف جائیداد کے تحفظ، مبینہ تجاوزات، تاریخی اراضی ریکارڈ، مختلف سروے نمبروں اور زیرِ سماعت قانونی مقدمات کے باعث اس اراضی کی موجودہ قانونی اور زمینی صورتحال کے بارے میں کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق تلنگانہ وقف بورڈ نے نومبر 2024 میں کوہِ امام ضامنؒ کی اراضی کے معاملے میں حیدرآباد ڈیزاسٹر رسپانس اینڈ ایسٹس پروٹیکشن ایجنسی (HYDRAA) سے رجوع کیا تھا۔ وقف بورڈ کی جانب سے اراضی کا مجموعی رقبہ 82 ایکڑ 27 گنٹے بتایا گیا تھا۔ بورڈ نے الزام عائد کیا تھا کہ وقف اراضی میں موجود ایک آبی ذخیرے کے علاقے میں مبینہ طور پر غیر مجاز ڈمپنگ کی جا رہی ہے، جس سے مزید تجاوزات کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔ بورڈ نے HYDRAA سے اراضی کے تحفظ اور مبینہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کی درخواست کی تھی۔

60 یا 70 فیصد قبضے کا دعویٰ کتنا درست؟

کوہِ امام ضامنؒ کی اراضی پر بڑے پیمانے پر تجاوزات سے متعلق شکایات وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔ بعض مقامی ذرائع کی جانب سے یہ دعوے بھی کیے گئے ہیں کہ تقریباً 60 یا 70 فیصد اراضی مبینہ طور پر قبضے میں ہے۔

تاہم، دستیاب موجودہ ریکارڈ میں ایسا کوئی تازہ اور جامع سرکاری سروے سامنے نہیں آیا جو پورے 82 ایکڑ 27 گنٹے رقبے میں مبینہ قبضے کا حتمی فیصد متعین کرتا ہو۔

اس لیے کسی مخصوص فیصد کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ اصل صورتحال جاننے کے لیے محکمہ مال، وقف بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے تازہ مشترکہ سروے ضروری ہوگا۔

27 جنوری 2026 کا ہائی کورٹ فیصلہ

اس معاملے میں ایک اہم پیش رفت تلنگانہ ہائی کورٹ کا 27 جنوری 2026 کا فیصلہ ہے، جو تریملگیری کے سروے نمبر 66/1 سے متعلق تھا۔ اس اراضی کے حوالے سے تین رٹ درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزاروں نے وقف بورڈ کے بعض احکامات اور 2004 میں آندھرا پردیش گزٹ میں شائع شدہ Muntakhab No.54/M1/Tel-I/RR/84 کی بنیاد کو چیلنج کیا تھا۔

عدالتی فیصلے میں درج تاریخی تفصیلات کے مطابق متعلقہ اراضی پرانے سروے نمبر 62 کے تحت 1920 سے 1929 تک کوہِ امام ضامن کے نام سے درج تھی۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق حکومت نے 1929 میں یہ اراضی واپس لے لی تھی، جس کے بعد اراضی کی نیلامی اور ملکیت سے متعلق مختلف کارروائیوں کا ذکر ریکارڈ میں موجود ہے۔

دوسری جانب وقف بورڈ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ متعلقہ سروے نمبر 66/1 اور 66/2 سروس اِنَام/مافی اِنَام اراضی تھیں اور کوہِ امام ضامن کے ادارے سے وابستہ تھیں۔ بورڈ نے اپنے دعوے کی حمایت میں تاریخی پاہانی ریکارڈ اور دیگر دستاویزات کا حوالہ دیا۔

عدالت نے سروے، انکوائری اور متعلقہ قانونی طریقۂ کار کا جائزہ لینے کے بعد رٹ درخواستیں منظور کیں اور چیلنج کیے گئے احکامات کو منسوخ کردیا۔

اہم بات یہ ہے کہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ مخصوص طور پر سروے نمبر 66/1 سے متعلق تھا۔ اسے کوہِ امام ضامنؒ سے منسوب مکمل 82 ایکڑ 27 گنٹے اراضی کی ملکیت کا حتمی فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

جامع زمینی سروے کی ضرورت

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ 82 ایکڑ 27 گنٹے کے طور پر بیان کی جانے والی اراضی کی موجودہ زمینی اور قانونی حیثیت کیا ہے؟

اس سوال کا جواب ایک جامع سرکاری سروے کے ذریعے ہی واضح ہوسکتا ہے۔ سروے میں ہر سروے نمبر کی الگ نشاندہی کرتے ہوئے یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ کون سا حصہ وقف ریکارڈ میں ہے، کون سا حصہ سرکاری یا دفاعی استعمال میں ہے، کہاں تعمیرات موجود ہیں، کہاں مبینہ تجاوزات ہیں اور کن حصوں کے بارے میں عدالتوں میں مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔

اسی طرح نومبر 2024 میں وقف بورڈ کی جانب سے HYDRAA کو دی گئی درخواست پر اب تک کیا کارروائی ہوئی، اس کی تفصیلات بھی عوام کے سامنے آنا ضروری ہیں۔

تاریخی ورثے کے تحفظ کا سوال

کوہِ امام ضامنؒ صرف اراضی سے متعلق قانونی تنازع نہیں بلکہ حیدرآباد کے تاریخی مذہبی ورثے سے بھی وابستہ مقام ہے۔ مقامی سطح پر اراضی، بنیادی سہولتوں، صفائی اور تاریخی مقام کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں۔

اس لیے اراضی کے قانونی تحفظ کے ساتھ زائرین کی سلامتی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور موجودہ تعمیرات کی قانونی حیثیت بھی واضح ہونا ضروری ہے۔

وائٹ پیپر یا عوامی اسٹیٹس رپورٹ کی ضرورت

کوہِ امام ضامنؒ کی اراضی کے بارے میں مختلف ادوار کے ریونیو ریکارڈ، پاہانی، گزٹ نوٹیفکیشن، منتخَب، وقف ریکارڈ اور عدالتی کارروائیاں ایک پیچیدہ قانونی تاریخ کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ایسی صورتحال میں محض عوامی دعووں یا الزامات کی بنیاد پر کسی فرد یا ادارے کو “قبضہ مافیا” قرار دینا قانونی طور پر مناسب نہیں ہوگا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ، محکمہ مال، HYDRAA اور دیگر متعلقہ سرکاری ادارے مشترکہ طور پر تازہ سروے کرائیں اور 82 ایکڑ 27 گنٹے اراضی کی موجودہ صورتحال پر ایک واضح رپورٹ عوام کے سامنے رکھیں۔

اگر کسی حصے پر غیر مجاز قبضہ یا غیر قانونی تعمیر ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہے۔ تاہم جن حصوں کی ملکیت یا وقف حیثیت عدالت میں زیرِ غور ہو، وہاں حتمی عدالتی فیصلے کا احترام ضروری ہوگا۔

کوہِ امام ضامنؒ کی اراضی کی اصل صورتحال دعوؤں یا اندازوں سے نہیں بلکہ تازہ سرکاری سروے، مستند اراضی ریکارڈ اور عدالتی احکامات کے ذریعے ہی واضح ہوسکتی ہے۔ یہی طریقہ تاریخی مقام کے تحفظ اور مستقبل کے اراضی تنازعات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے

یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ اگر کوہِ امام ضامنؒ کی اراضی پر غیر مجاز قبضے ثابت ہوتے ہیں تو اس کی ذمہ داری خودکار طور پر کسی ایک فرد، بشمول حیدر آغا، پر عائد نہیں کی جانی چاہیے۔ وقف بورڈ کے موجودہ یا سابق ذمہ داران، سابق شیعہ نمائندگان، سیاست دانوں یا اراضی کے ریکارڈ اور انتظام سے وابستہ دیگر افراد کے ممکنہ کردار کی بھی، اگر کوئی ہو، تو مکمل جانچ کی ضرورت ہے۔اس سلسلے میں حقائق کا تعین، متعلقہ افراد کے ممکنہ کردار اور کسی بھی غفلت، ملی بھگت یا انتظامی و قانونی طریقۂ کار میں کوتاہی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے تفصیلی چھان بین جاری رہنے کی اطلاع ہے۔ حتمی ذمہ داری کا تعین مستند ریکارڈ، سرکاری تحقیقات اور قانونی کارروائی کے نتائج کی بنیاد پر ہی کیا جانا چاہیے۔ (pressmediaofindia.com)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں