تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ پر سوالات اٹھنے لگے ۔ بشمول کوہ امام ضامن؟

حیدرآباد، 10 ستمبر (پی ایم آئی): تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کے صدرنشین عظمت اللہ حسینی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے سلسلے میں وقف بورڈ پر عائد کیے جانے والے الزامات کے لیے بورڈ ذمہ دار نہیں ہے۔تاہم، اس بیان کے بعد اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ان کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے جواب دہی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اگر وقف بورڈ ان جائیدادوں کی تباہی کا ذمہ دار نہیں ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مبینہ غفلت یا کوتاہی کے نتیجے میں اوقافی جائیدادوں کو پہنچنے والے نقصان کے لیے کون سی اتھارٹی یا کون سے ذمہ داران جواب دہ ہیں؟یہ سوال بھی اہم ہے کہ وقف بورڈ نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور نگہداشت کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں اور اگر کسی جائیداد پر مبینہ قبضہ یا غیر مجاز تعمیرات کا معاملہ سامنے آیا تو اس کے خلاف بروقت کارروائی کی گئی یا نہیں۔خاص طور پر کوہ امام ضامن کی اوقافی جائیداد کے حوالے سے بھی متعدد سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

وقف بورڈ کے صدرنشین اور بورڈ کے شیعہ رکن اس جائیداد سے متعلق زیرِ سماعت مقدمات کی موجودہ صورتحال اور جائیداد کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات کی وضاحت کر سکتے ہیں۔کوہ امام ضامن کی اراضی پر مبینہ طور پر جاری تعمیرات کے حوالے سے بھی یہ سوالات سامنے آئے ہیں کہ تعمیرات کس نے شروع کیں، کس اختیار کے تحت کی جا رہی ہیں اور آیا متعلقہ افراد کے پاس گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC) کی قانونی منظوری یا اجازت نامہ موجود ہے یا نہیں۔یہ بھی واضح کیے جانے کی ضرورت ہے کہ آیا وقف بورڈ یا متعلقہ کمیٹی نے تعمیرات سے متعلق اجازت ناموں، سرکاری ریکارڈ اور ملکیت سے متعلق دستاویزات کی جانچ کی ہے۔

اگر تعمیرات غیر مجاز پائی گئی ہوں تو انہیں روکنے یا متعلقہ حکام سے کارروائی کروانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟اسی طرح حیدرآباد ڈیزاسٹر رسپانس اینڈ ایسٹ پروٹیکشن ایجنسی (HYDRA) سے کی گئی نمائندگیوں اور سیاسی قائدین کے دوروں کے نتیجہ خیز ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بھی متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی جا رہی ہے۔مقدس کوہ امام ضامن سے منسوب اراضی پر مبینہ تعمیرات اور جائیداد سے متعلق گردش کرنے والی ویڈیوز اور تصاویر نے بھی عوامی سطح پر سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان معاملات پر وقف بورڈ کے صدرنشین عظمت اللہ حسینی، چیف ایگزیکٹیو آفیسر اسد اللہ اور بورڈ کے شیعہ رکن کی جانب سے واضح موقف سامنے نہ آنے کو بھی بعض حلقوں میں باعثِ تشویش قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم، جائیداد کی ملکیت، قبضہ، زیرِ سماعت مقدمات اور تعمیرات کی قانونی حیثیت سے متعلق تمام دعووں کی حتمی تصدیق سرکاری ریکارڈ، متعلقہ محکموں کی رپورٹس اور قانونی کارروائی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس لیے وقف بورڈ، GHMC اور دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے حقائق اور موجودہ صورتحال کی وضاحت اہم سمجھی جا رہی ہے۔ (pressmediaofindia. com)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں