رپورٹ میں پولیس اسٹیشنوں کے اطراف ممکنہ غیر مجاز اثر و رسوخ سے متعلق عوامی خدشات کو اجاگر کیا گیا ہے اور سینئر پولیس افسران سے اس معاملے کی تصدیق کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم، رپورٹ میں کسی فرد یا تنظیم کے خلاف کوئی حتمی الزام عائد نہیں کیا گیا۔
حیدر آباد4 ستمبر (پی ایم آئی)اس میں دو رائے نہیں کے پو لیں سال میں چھ ماہ عیدین و تہواروں کے پر امن بنا نے شب و روز مصروف رہتی ہے۔اس طرح ماحول کو خوشگوار بنائے رکھنے میں بھی کا میاب ہے۔خاص طور پر چار مینار ڈیوثرن میں ڈیو ٹی کا کوئی وقت نہیں’یہاں تک کے ڈی سی پی کھیر کرن پر بھا کر آئی پی ایس کو بھی رات دیر گئے تک اپنے ما تحت عملہ کی طرح عوام کے در میان دیکھا گیا ہے۔خاص طور پر رمضان’عید الـاضحی’محرم’ بونال ’اور اب گنیش چتور تھی کے پر امن انعقاد کے لئے کمر بستہ ہو گئے ہیں
۔پو لیس کی مصروفیت کا فائدہ اٹھا کررو ڈی شیٹرس و سا بق روڈی شیٹراور ان کی ما لی مدد کر نے والےوائٹ کا لرکریمنل نے عوام کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔بعض کریمنل ریکارڈ رکھنے واےمیڈیا کا لبادہ پہن کر پو لیں اسٹیشن میں بلاوجہ بہ آسا نی آمد و رفت اور عہداروں کی شال پوشی و گلپوشی کے سو شل میڈیا پر تصا ویر کے ذریعہ عوام پر اثر انداز ہو نے کے مقصد سے یہ کام کر رہے ہیں
ان سے ہٹ کر بھی کچھ لوگ مذہبی تنظیموں کی آڑ میں ایسے ہی کام انجام دینے کی بھی اطلاع عام ہے۔ان میں چند افراد ایسے ہیں جن کا کام ہی یہ ہوتا ہے کےجیسے کو ئی انسپکٹر جائزہ لے فوری پہنچکر شال پو شی اور گلپوشی کر کے تصا ویر سوشل میڈیا پر وائرل کر تے ہیں۔ان کا مقصد اوپر بیا ن کیا جا چکا ہے۔اگر کو ئی انسپکٹر انھیں نظر انداز کرے تو اسے بد نام کر نے میں کو ئی کثر نہیں چھوڑتے۔
در اصل یہ خبر عوامی شکایات پر مبنی ہے۔کیو نکہ ہر امن پسند شہری اور میڈیا کی ذمہ داری کہ وہ جرائم کی روک تھام کے لئے مثبت رول ادا کرے۔بہتر ہو گا کے کمشنر پو لیں وی سی سجنار’ ایڈیشنل کمشنر پو لیس تفسیر اقبال اور ڈی سی پی کھیر کرن بلا تا خیر بعض پو لیں اسٹیشن سے در میا نی آدمی کے رول کے خاتمہ پر توجہ دین۔چند ایک سما جی تنظیمیں جن کے نام سر کاری محکمہ جات کے نام سے ملتے جلتے ہیں ان کے رول کی بھی چھان بین ضروری ہے۔(pressmediaofindia.com)


















