سوشل میڈیا مہم زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتی، عوام کی اکثریت پارٹی قیادت کے ساتھ ہے، عوامی رائے
حیدرآباد، 2 ستمبر (پی ایم آئی): آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی کی جانب سے مرزا رحمت بیگ سے متعلق حالیہ واقعہ کے سلسلے میں کی گئی تادیبی کارروائی کو عوام کے بعض حلقوں نے بروقت اور دانشمندانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران حاصل کی گئی عوامی رائے کے مطابق کسی بھی پارٹی عہدیدار کی جانب سے تنظیمی اصولوں اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کرنا پارٹی قیادت کی ذمہ داری کے دائرے میں آتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کو مجلس کی مجموعی سیاسی ساکھ یا امیج سے جوڑنا مناسب نہیں۔
سوشل میڈیا پر مرزا رحمت بیگ کے خلاف کارروائی کی وضاحت طلب کرنے کے حوالے سے بحث جاری ہے، تاہم زمینی سطح پر لوگوں سے حاصل ہونے والی رائے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا مہم لازماً وسیع تر عوامی رجحان کی عکاسی نہیں کرتی۔ بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وضاحت طلب کرنے کی مہم کو اسدالدین اویسی کو سیاسی طور پر گھیرنے کی کوشش کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
عوامی نمائندوں اور سیاسی مبصرین نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کی جانب سے کیے گئے ہر داخلی تادیبی فیصلے کے ساتھ تفصیلی عوامی وضاحت دینا ضروری نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق اگر کارروائی پارٹی کے دستور اور ضابطۂ اخلاق کے مطابق کی گئی ہے تو قیادت کے فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے۔
مجلس کی ساکھ متاثر ہونے کا امکان نہیں
اپنی رائے کا اظہار کرنے والے افراد نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ کسی ایک فرد سے متعلق معاملہ مجلس کی مجموعی سیاسی حیثیت پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجلس کی ایک مستحکم سیاسی شناخت اور تنظیمی بنیاد موجود ہے، جس کا اندازہ کسی ایک واقعہ یا سوشل میڈیا مہم کی بنیاد پر نہیں لگایا جاسکتا۔
ان کے مطابق اسدالدین اویسی کے فیصلے سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ تنظیمی نظم و ضبط اور پارٹی کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سیاسی تنظیم کو مضبوط بنانے کے لیے نظم و ضبط کا نفاذ ضروری ہے۔
بلدیاتی انتخابات پر بڑے اثرات متوقع نہیں
آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے حاصل کی گئی عوامی رائے میں یہ بات سامنے آئی کہ مرزا رحمت بیگ معاملے کا مجلس کے انتخابی امکانات پر کوئی بڑا اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔
عوام کے مطابق ووٹر اپنے فیصلے میں مقامی مسائل، امیدواروں کی مقبولیت، عوامی رابطہ، شہری سہولتوں اور اپنے اپنے علاقوں کی موجودہ سیاسی صورتحال کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر کسی معاملے کو ملنے والی غیر معمولی اہمیت کا یہ مطلب نہیں کہ عام ووٹر بھی اسے اسی سطح پر اہمیت دیتا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے کے حقیقی سیاسی اثرات کا اندازہ صرف انتخابی نتائج سے ہی ہوگا۔
توجہ سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز ہونی چاہیے
عوامی رائے میں یہ بھی کہا گیا کہ مجلس کی قیادت کو تنازع سے آگے بڑھتے ہوئے اپنی سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ بلدیاتی انتخابات قریب آنے کے پیش نظر امیدواروں کے انتخاب، مقامی مسائل اور زمینی سطح پر عوامی رابطہ مہم کو زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔
مجموعی طور پر گزشتہ چند دنوں میں حاصل کی گئی رائے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجلس کے روایتی حامیوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑی ہے اور مرزا رحمت بیگ کے خلاف کی گئی کارروائی کو بنیادی طور پر ایک داخلی تادیبی معاملہ سمجھتی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری مہم کے باوجود فی الحال ایسا کوئی واضح اشارہ نہیں ملتا کہ اس واقعہ سے مجلس کی سیاسی ساکھ کو نمایاں نقصان پہنچے گا یا آئندہ بلدیاتی انتخابات میں اس کے امکانات متاثر ہوں گے۔
(pressmediaofindia.com)


















