اسمبلی سے کے سی آر کی طویل غیر حاضری پر کانگریس کا احتجاج، جوابدہی کا مطالبہ

کانگریس رہنماؤں نے بی آر ایس صدر کے چندرشیکھر راؤ کی تلنگانہ اسمبلی سے طویل غیر حاضری پر سوال اٹھاتے ہوئے تنقید کی۔ وزیر محمد اظہرالدین نے کہا کہ اگر کے سی آر ایوان کی کارروائی میں شرکت کرنے سے قاصر ہیں تو انہیں قائد حزبِ اختلاف کے عہدے سے استعفیٰ دینے پر غور کرنا چاہیے۔

حیدرآباد، 6 ستمبر (پی ایم آئی): تلنگانہ کانگریس نے اتوار کے روز حیدرآباد کے دھرنا چوک پر احتجاج کرتے ہوئے بی آر ایس صدر اور سابق چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی تلنگانہ اسمبلی سے طویل غیر حاضری پر سوال اٹھائے۔

یہ احتجاج پیر، 7 ستمبر سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس سے ایک روز قبل کیا گیا۔ احتجاج کی قیادت ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر، وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین اور وزیر آئی ٹی ڈی سری دھر بابو نے کی۔

احتجاج کے دوران کانگریس کارکنوں نے ’’کمبھ کرن کے سی آر‘‘ کے عنوان والے پوسٹرز اٹھا رکھے تھے اور اسمبلی سے ان کی طویل غیر حاضری پر تنقید کی۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے محمد اظہرالدین نے کہا کہ منتخب نمائندوں کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل کے تئیں جوابدہ رہیں اور اسمبلی کارروائی میں فعال طور پر حصہ لیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کے سی آر اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے سے قاصر ہیں تو انہیں قائد حزب اختلاف (ایل او پی) کے عہدے سے استعفیٰ دینے پر غور کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق قائد حزب اختلاف پارلیمانی جمہوریت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس میں حکومت سے سوال کرنا، مباحثوں میں حصہ لینا اور عوامی مسائل کو ایوان میں اٹھانا شامل ہے۔

اظہرالدین نے کہا کہ کے سی آر کی اسمبلی سے مسلسل غیر حاضری ان کی جانب سے انہیں منتخب کرنے والے عوام کے تئیں ذمہ داری پر سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کے سی آر چیف منسٹر رہتے ہوئے اسمبلی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے، لیکن اب اپوزیشن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایوان میں موجود رہ کر عوام کی آواز بلند کرے۔

حکومت کی فلاحی پالیسیوں پر زور

اظہرالدین نے کہا کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی قیادت میں تلنگانہ حکومت ریاست کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

انہوں نے ’’تلنگانہ رائزنگ‘‘ کے وژن، خواتین کو بااختیار بنانے، خاندانوں کو مضبوط بنانے، تعلیم اور اقلیتوں کی فلاح و بہبود کو حکومت کی اہم ترجیحات قرار دیا۔

’کمبھ کرن‘ احتجاج

اس سے قبل 4 ستمبر کو بھی کانگریس نے حیدرآباد میں ’’کمبھ کرن‘‘ احتجاج کیا تھا۔ پارٹی کارکنوں نے تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے قیام کے بعد کے سی آر کی اسمبلی کارروائی سے مبینہ طور پر تقریباً ایک ہزار دن کی غیر حاضری کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں