حیدرآباد، 11 ستمبر (پی ایم آئی): اتر پردیش میں سرکاری اراضی پر مبینہ تجاوزات اور غیر مجاز تعمیرات کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران متعدد مذہبی مقامات بھی انہدام یا دیگر کارروائیوں کی زد میں آئے ہیں۔ تاہم 2017 سے ستمبر 2026 تک پوری ریاست میں مساجد اور مندروں کے انہدام کی کوئی جامع، سرکاری اور مذہب وار فہرست سامنے نہیں آئی ہے۔ اس لیے مختلف اضلاع میں رپورٹ ہونے والے اعداد کو ریاستی مجموعی تعداد قرار دینا محتاط صحافتی معیار کے مطابق درست نہیں ہوگا۔
سنبھل میں ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں کے بارے میں جنوری 2026 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ کم از کم 17 مساجد سمیت متعدد دیگر ڈھانچے منہدم کیے گئے۔ انتظامیہ نے ان تعمیرات کو سرکاری یا تالاب کی اراضی پر مبینہ غیر قانونی قبضے سے جوڑا۔
بھارت-نیپال سرحد سے متصل یوپی کے اضلاع میں 2025 کے دوران غیر مجاز مذہبی تعمیرات کے خلاف وسیع کارروائی کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق 350 سے زائد مذہبی مقامات—جن میں مدارس، مساجد، مزارات اور عیدگاہیں شامل تھیں—کی نشاندہی اور sealing یا demolition کی کارروائی ہوئی۔ ایک الگ رپورٹ کے مطابق کارروائیوں میں 225 مدارس، 30 مساجد، 25 مزارات اور 6 عیدگاہیں شامل تھیں۔ ان اعداد میں مختلف نوعیت کی کارروائیاں شامل ہیں، اس لیے انہیں صرف انہدام کی تعداد سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
اسی سرحدی مہم کے بارے میں ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعض مقامات پر 11 ڈھانچے منہدم کیے گئے، جن میں 8 مدارس، 2 مساجد اور ایک مزار شامل تھا۔
دوسری جانب مورادآباد میں مئی 2025 میں NH-734 کے فور لین منصوبے کے لیے clearance drive کے دوران انتظامیہ اور NHAI کی کارروائی میں 9 مندر، ایک قبرستان اور ایک مزار منہدم کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔ انتظامیہ کی جانب سے اسے سڑک کی توسیع سے متعلق کارروائی بتایا گیا۔
سہارنپور میں ستمبر 2026 میں ڈسٹرکٹ کلیکٹریٹ کے احاطے میں واقع ایک مسجد کو عدالت کی جانب سے غیر مجاز قرار دیے جانے کے بعد منہدم کیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق یہ تعمیر سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر قائم تھی، جبکہ مسجد کے متولی نے کارروائی کے قانونی طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
دستیاب واضح اعداد
سنبھل: کم از کم 17 مساجد کے انہدام کی رپورٹ۔
نیپال سرحدی اضلاع: ایک رپورٹ میں 30 مساجد کے خلاف کارروائی کی تعداد دی گئی، جبکہ 350 سے زائد مذہبی مقامات مجموعی طور پر sealing/demolition کارروائی کے دائرے میں بتائے گئے۔
مورادآباد: 9 مندروں کے انہدام کی واضح رپورٹ۔
سہارنپور: 1 مسجد کا ستمبر 2026 میں انہدام۔
ریاست گیر مجموعی تعداد: ابھی تک کوئی مستند، جامع سرکاری مذہب وار عدد دستیاب نہیں۔
لہٰذا یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ یوپی میں تجاوزات مخالف کارروائیوں کے دوران مساجد اور مندروں دونوں کے خلاف انہدامی کارروائیوں کی مثالیں موجود ہیں، لیکن دستیاب سرکاری و معتبر میڈیا ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پوری ریاست میں مجموعی طور پر کتنی مساجد اور کتنے مندر گرائے گئے۔ کارروائیوں کی قانونی بنیاد بھی ہر ضلع اور کیس میں الگ رہی ہے—کہیں سرکاری زمین پر مبینہ تجاوز، کہیں سڑک کی توسیع اور کہیں عدالتی احکامات بنیاد بنے۔
مذکورہ اعداد مختلف سرکاری بیانات اور میڈیا رپورٹس سے اخذ کیے گئے ہیں۔ انہیں حتمی ریاستی مجموعہ نہیں سمجھا جانا چاہیے، جب تک حکومت اتر پردیش کی جانب سے ضلع وار اور مذہب وار مکمل سرکاری ڈیٹا جاری نہ کیا جائے۔(pressmediaofindia.com)


















