نئی دہلی، 12 ستمبر (پی ایم آئی): برکس کے رکن ممالک نے ہفتہ کو بھارت منڈپم، نئی دہلی میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے پہلے روز نئی دہلی اعلامیہ 2026 متفقہ طور پر منظور کرلیا۔ اعلامیہ میں مضبوط کثیرالجہتی نظام، باہمی تعاون کے فروغ اور عالمی حکمرانی کے اداروں میں اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
وزیراعظم نریندر مودی نے اجلاس کے اختتام پر اعلامیہ کی منظوری کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی اعلامیہ برکس ممالک کے مشترکہ عزم کو واضح سمت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلامیہ میں کیے گئے فیصلوں کو عملی نتائج میں تبدیل کرنا اب تمام رکن ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کو فرسودہ اداروں کے ذریعے مؤثر انداز میں نہیں چلایا جاسکتا، اس لیے عالمی اداروں میں نمائندگی، جواب دہی اور قواعد سازی کے نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔ انہوں نے گلوبل ساؤتھ کو نئی ٹیکنالوجیز کی ترقی اور ان سے متعلق عالمی قواعد طے کرنے میں مساوی کردار دینے پر بھی زور دیا۔
مسٹر مودی نے برکس تسلسل و عمل درآمد میکانزم قائم کرنے کی تجویز پیش کی، تاکہ ہر سال چیئرمین شپ کی تبدیلی کے باوجود برکس کے اقدامات اور فیصلوں میں تسلسل برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرائیکا کے ذریعے مختلف اقدامات پر مؤثر فالو اَپ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
وزیراعظم نے سمندری کارکنوں کے لیے سی فیررز ایمرجنسی سپورٹ نیٹ ورک قائم کرنے کی تجویز بھی دی، جس کے ذریعے متعلقہ ممالک کے بحری حکام اور سفارتی مشنز کو مربوط کرکے مشکل حالات میں مدد فراہم کی جاسکے گی۔
برکس کے قیام کے 20 سال مکمل ہونے کو تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں میں تنظیم نے عالمی سطح پر اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی برکس چیئرمین شپ لچک، جدت، تعاون اور پائیداری کے اصولوں پر مرکوز رہی۔
وزیراعظم نے عالمی حکمرانی میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گلوبل ساؤتھ عالمی بحرانوں کا سامنا کرنے میں صفِ اول میں ہے، لیکن فیصلہ سازی میں اس کی نمائندگی محدود ہے۔ انہوں نے عالمی حکمرانی میں اصلاحات کے لیے 10 مشترکہ تجاویز تیار کرنے کی تجویز پیش کی، جنہیں آئندہ سربراہی اجلاس تک برکس اصلاحاتی روڈ میپ کی شکل دینے کا ہدف ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس معاملے کو مزید مؤخر نہیں کیا جاسکتا اور مذاکرات کے لیے واضح مدت اور ٹھوس نتائج ضروری ہیں۔ انہوں نے عالمی مالیاتی اداروں میں ووٹنگ کے اختیارات اور قیادت کے ڈھانچے کو موجودہ معاشی حقائق سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
برکس کی 20ویں سالگرہ کے موقع پر رکن ممالک کے رہنماؤں نے دو یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیے۔


















