کوہِ امام ضامنؒ کی 82 ایکڑ 27 گنٹے اراضی: اصل میں کتنی زمین وقف کے پاس، کتنی سرکاری اور کتنی متنازع؟

حیدرآباد، 21 ستمبر (نجف علی شوکت، PMI):
سکندرآباد کے ترملگیری، امّوگوڑہ میں واقع تاریخی کوہِ امام ضامنؒ کی اراضی ایک مرتبہ پھر زمین کے ریکارڈ، وقف حیثیت، مبینہ تجاوزات، سرکاری و دفاعی استعمال اور مختلف عدالتی مقدمات کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ دستیاب ریکارڈ میں اس اراضی کا مجموعی رقبہ 82 ایکڑ 27 گنٹے بتایا گیا ہے، تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ اس مجموعی رقبے میں سے آج کتنی زمین حقیقتاً وقف ریکارڈ میں موجود ہے اور باقی زمین کی موجودہ قانونی و زمینی حیثیت کیا ہے؟

دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سوال کا مکمل اور حتمی جواب فی الحال کسی ایک تازہ سرکاری سروے یا جامع اسٹیٹس رپورٹ میں موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 82 ایکڑ 27 گنٹے کی اراضی کے بارے میں ایک تازہ مشترکہ سرکاری پیمائش اور سروے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

82 ایکڑ 27 گنٹے میں کتنی زمین اب بھی وقف ریکارڈ میں ہے؟

تلنگانہ وقف بورڈ نے مختلف عدالتی کارروائیوں میں تاریخی ریکارڈ، منٹخب، پہانی اور گزٹ اندراجات کی بنیاد پر کوہِ امام ضامنؒ کی اراضی کو وقف/سروس انعام زمین قرار دینے کا موقف اختیار کیا ہے۔ ہائی کورٹ کے ریکارڈ میں وقف بورڈ کی جانب سے بتایا گیا کہ 1951 کے منٹخب نمبر 13 میں کوہِ امام ضامنؒ سے متعلق سروس انعام اراضی کا رقبہ 71 ایکڑ 3 گنٹے درج تھا، جبکہ سروے نمبر 66/1 اور 66/2 کو بھی وقف بورڈ نے سروس انعام/مافی انعام اراضی قرار دیا۔

لیکن یہ تاریخی ریکارڈ آج کے پورے 82 ایکڑ 27 گنٹے کی موجودہ زمینی صورتحال کا متبادل نہیں۔ موجودہ وقت میں کتنی اراضی وقف ریکارڈ میں برقرار ہے، کتنی اراضی دیگر مقاصد کے لیے منتقل یا حاصل کی جاچکی ہے اور کتنی زمین مختلف فریقوں کے قبضہ یا استعمال میں ہے، اس کی جامع تازہ سرکاری تفصیل دستیاب ریکارڈ سے واضح نہیں ہوتی۔

دفاعی یا دیگر سرکاری ضروریات کے لیے کتنی اراضی حاصل ہوئی؟

ہائی کورٹ میں پیش کیے گئے وقف بورڈ کے موقف کے مطابق کوہِ امام ضامنؒ سے متعلق کچھ وقف اراضی دفاعی مقصد کے لیے حاصل کی گئی تھی اور اس کے عوض معاوضہ وقف بورڈ کو ادا کیے جانے کا ریکارڈ بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔

اس کے باوجود موجودہ دستیاب مواد میں یہ واضح نہیں ہے کہ 82 ایکڑ 27 گنٹے میں سے کتنے ایکڑ اور کتنے گنٹے دفاعی یا دیگر سرکاری ضرورتوں کے لیے حاصل کیے گئے۔ اس کے لیے Acquisition Awards، معاوضہ ریکارڈ، سروے نمبر وار نقشہ اور موجودہ قبضہ/استعمال کی سرکاری تفصیل سامنے لانا ضروری ہوگا۔

رہائشی اور تجارتی تعمیرات کتنی زمین پر؟

کوہِ امام ضامنؒ کی مجموعی اراضی کے مختلف حصوں میں موجود مکانات، عمارتوں، تجارتی سرگرمیوں یا دیگر تعمیرات کا تازہ سرکاری رقبہ وار ڈیٹا فی الحال دستیاب نہیں ہے۔

اسی طرح بعض حلقوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر تجاوزات کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، لیکن پورے 82 ایکڑ 27 گنٹے پر حالیہ سرکاری مشترکہ سروے کے بغیر کسی مخصوص فیصد یا رقبے کو حتمی تجاوزات قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔

خاص طور پر 60 یا 70 فیصد اراضی پر قبضے کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں، مگر دستیاب ریکارڈ میں پورے رقبے کے بارے میں ایسا کوئی تازہ جامع سرکاری سروے موجود نہیں ملا جو ان فیصد اعداد کی حتمی تصدیق کرتا ہو۔

کتنی زمین کھلی، پہاڑی یا قدرتی حالت میں ہے؟

کوہِ امام ضامنؒ کا مرکزی مقام ایک پہاڑی پر واقع ہے، جبکہ اس کے اطراف میں مختلف نوعیت کی زمین موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم 82 ایکڑ 27 گنٹے کو کھلی، پہاڑی، قدرتی، تعمیر شدہ، آبی یا دیگر زمروں میں تقسیم کرنے والا تازہ سرکاری لینڈ یوز سروے دستیاب نہیں ہے۔

یہ تقسیم بھی ایک مشترکہ گراؤنڈ سروے کے ذریعے ہی واضح ہوسکتی ہے۔

کتنے حصوں کے بارے میں عدالتوں میں مقدمات زیرِ سماعت ہیں؟

27 جنوری 2026 کو تلنگانہ ہائی کورٹ کے ایک اہم فیصلے میں سروے نمبر 66/1، ترملگیری سے متعلق تین رِٹ پٹیشنز پر فیصلہ کیا گیا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق پرانے سروے نمبر 62 سے متعلق تاریخی ریکارڈ، 1920 سے 1929 تک کوہِ امام ضامنؒ کے نام اندراج، 1929 میں سرکاری تحویل، بعد کے نیلامی کے عمل اور 1951 کے منٹخب سمیت متعدد دستاویزات عدالت کے سامنے آئیں۔

وقف بورڈ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سروے نمبر 66/1 اور 66/2 کوہِ امام ضامنؒ سے متعلق سروس انعام/مافی انعام اراضی ہیں۔ دوسری جانب درخواست گزاروں کی جانب سے پرانے سرکاری ریکارڈ، نیلامی اور ملکیت سے متعلق مختلف دعوے پیش کیے گئے۔

ہائی کورٹ نے تینوں رِٹ پٹیشنز منظور کرتے ہوئے چیلنج کیے گئے احکامات کو کالعدم قرار دیا۔ تاہم اس فیصلے کو پورے 82 ایکڑ 27 گنٹے کی حتمی ملکیت یا وقف حیثیت کا فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا؛ فیصلہ مخصوص قانونی تنازع، بالخصوص سروے نمبر 66/1، سے متعلق تھا۔

2024 میں HYDRAA کو دی گئی شکایت پر کیا کارروائی ہوئی؟

5 نومبر 2024 کو تلنگانہ وقف بورڈ نے HYDRAA سے کوہِ امام ضامنؒ کی اراضی سے متعلق شکایت کرتے ہوئے مبینہ غیر مجاز قبضوں اور وقف اراضی کے تالاب میں غیر مجاز ڈمپنگ کی شکایت کی تھی۔ نمائندگی میں مجموعی رقبہ 82 ایکڑ 27 گنٹے بتایا گیا اور مزید تجاوزات روکنے کے لیے مداخلت کی درخواست کی گئی۔

اس وقت HYDRAA حکام کی جانب سے معاملہ دیکھنے اور کارروائی کا یقین دلائے جانے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ تاہم دستیاب حالیہ مواد میں یہ مکمل طور پر واضح نہیں کہ اس شکایت کے بعد زمینی سطح پر کیا کارروائی کی گئی، کتنی اراضی کی پیمائش ہوئی، کتنے نوٹس جاری ہوئے یا کسی قبضہ/تعمیر کے خلاف حتمی کارروائی کی گئی یا نہیں۔ یہ بھی ایک اہم سوال ہے جس کا جواب متعلقہ سرکاری اداروں سے طلب کیا جانا چاہیے۔

جنوری 2026 کے ہائی کورٹ فیصلے کے بعد وقف بورڈ نے کیا قدم اٹھایا؟

ہائی کورٹ کے 27 جنوری 2026 کے فیصلے میں سروے نمبر 66/1 سے متعلق چیلنج شدہ احکامات کو کالعدم قرار دیا گیا۔ دستیاب عدالتی فیصلے میں اس مقدمے کے حقائق اور فریقین کے دلائل تفصیل سے درج ہیں، تاہم فیصلے کے بعد وقف بورڈ کی جانب سے اپیل، نظرثانی، مزید قانونی کارروائی یا دیگر انتظامی قدم کے بارے میں مکمل تازہ سرکاری ریکارڈ اس تحقیق کے لیے دستیاب نہیں ہوسکا۔

لہٰذا یہ سوال بھی اہم ہے کہ وقف بورڈ نے فیصلے کے بعد کیا قانونی حکمتِ عملی اختیار کی، آیا کوئی اپیل دائر کی گئی، اور 82 ایکڑ 27 گنٹے کی مجموعی اراضی کے تحفظ کے لیے کون سے عملی اقدامات کیے گئے۔

اب ضرورت تازہ مشترکہ سروے کی

کوہِ امام ضامنؒ کی اراضی کا معاملہ تاریخی ریکارڈ، مختلف سروے نمبرز، پرانی پہانی، منٹخب، گزٹ اندراجات، سرکاری تحویل، دفاعی حصول، موجودہ تعمیرات اور عدالتی تنازعات کے باعث پیچیدہ نوعیت اختیار کرچکا ہے۔

اس صورتحال میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ، محکمہ مال، HYDRAA اور دیگر متعلقہ سرکاری ادارے مشترکہ طور پر تازہ سروے کرائیں۔ ہر سروے نمبر کے لیے الگ رقبہ، موجودہ مالک/ریکارڈ شدہ حیثیت، سرکاری یا دفاعی استعمال، تعمیرات، کھلی اراضی، مبینہ تجاوزات اور زیرِ سماعت مقدمات کی تفصیل مرتب کی جائے۔

اس کے بعد 82 ایکڑ 27 گنٹے کی مکمل پبلک اسٹیٹس رپورٹ یا وائٹ پیپر جاری کیا جاسکتا ہے، جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ:

کتنی اراضی موجودہ وقف ریکارڈ میں ہے؛
کتنی زمین دفاعی یا دیگر سرکاری مقاصد کے لیے حاصل ہوئی؛
کتنی زمین پر رہائشی یا تجارتی تعمیرات ہیں؛
کتنی اراضی کھلی یا قدرتی حالت میں ہے؛
کتنے سروے نمبرز یا حصے قانونی تنازعات میں ہیں؛
سرکاری پیمائش کے مطابق مبینہ تجاوزات کا اصل رقبہ کتنا ہے؛
2024 کی HYDRAA شکایت پر کیا عملی کارروائی ہوئی؛ اور
جنوری 2026 کے ہائی کورٹ فیصلے کے بعد وقف بورڈ نے کون سے قانونی اقدامات کیے۔

کوہِ امام ضامنؒ کی اراضی کی حقیقی موجودہ صورتحال کا حتمی تعین دعوؤں یا اندازوں سے نہیں بلکہ تازہ سرکاری سروے، مستند اراضی ریکارڈ، سروے نمبر وار نقشوں اور عدالتی احکامات کی روشنی میں ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس عمل سے نہ صرف تاریخی وقف املاک کے تحفظ میں مدد مل سکتی ہے بلکہ مستقبل کے زمین سے متعلق تنازعات اور غیرمصدقہ دعوؤں کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں