حیدر آباد:خونی ماتم، عقیدت اور نظم و ضبط کے ساتھ بی بی کا علم کے تاریخی جلوس کا پر امن اختتام’

حیدرآباد، 26 جون (نجف علی شوکت – پی ایم آئی): ملک کی اہم ترین اور تاریخی محرم کی مذہبی رسومات میں شمار ہونے والا بی بی کا علم کا جلوس جمعہ کے روز حیدرآباد میں انتہائی عقیدت و احترام اور پُرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔ شہر پولیس اور مختلف سرکاری محکموں کی جانب سے کیے گئے سخت اور مؤثر سیکورٹی انتظامات کے باعث جلوس بحسن و خوبی اپنی منزل تک پہنچا۔

صدیوں پر محیط اس تاریخی جلوس کا آغاز دبیرپورہ، دارالشفا میں واقع تاریخی بی بی کا الاوہ عاشور خانہ سے ہوا اور یہ اپنے روایتی راستوں سے گزرتا ہوا چارمینار پہنچا۔ بعد ازاں جلوس چادر گھاٹ کے قریب دریائے موسیٰ کے کنارے واقع مسجدِ الٰہی کے روبرو عاشور خانہ بیت الحزن پہنچا، جہاں رات 8 بج کر 50 منٹ پر علمِ مبارک کو ٹھنڈا کیا گیا۔ اس موقع پر گروہ شیدائے شبیر کی جانب سے سینہ زنی اور عزاداری کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ بعد ازاں مجلسِ شامِ غریباں بھی منعقد کی گئی۔

بی بی کا علم دوپہر ایک بج کر بیس منٹ پر الاوہ سے روانہ ہوا۔ اس سے قبل گروہ شیدائے شبیر کے زیرِ اہتمام مجلسِ ہرسہ منعقد ہوئی، جس سے علامہ اعجاز فرخ نے خطاب کرتے ہوئے واقعۂ کربلا کی تعلیمات اور حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانیوں پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر ’’ماتمِ قتیل العطشان‘‘ کے دوران بڑی تعداد میں عزاداروں نے قمع زنی کے ذریعے خونی ماتم بھی انجام دیا۔

مقدس علم کو ہاتھی ’’سری دیوی‘‘ پر سوار کرکے جلوس میں شامل کیا گیا، جسے اس سال خصوصی طور پر کرناٹک سے حیدرآباد لایا گیا تھا۔ جلوس کے راستے میں ہزاروں عزاداروں اور عقیدت مندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے علمِ مبارک کی زیارت کی اور حضرت امام حسینؑ اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار، آئی پی ایس نے چارمینار کے مقام پر ذاتی طور پر سیکورٹی اور ٹریفک انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے قانون و نظم اور ٹریفک ونگ کے اعلیٰ افسران کے ہمراہ حیدرآباد سٹی پولیس کی جانب سے علمِ مبارک پر روایتی دٹّی اور پھولوں کا سہرہ بھی پیش کیا

پولیس کمشنر نے جلوس کے دوران مختلف مقامات کا دورہ کرتے ہوئے انتظامات کا مسلسل جائزہ لیا اور تعینات پولیس افسران کو ضروری ہدایات جاری کیں تاکہ جلوس بلا رکاوٹ اور پُرامن انداز میں اپنی منزل تک پہنچ سکے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وی سی سجنار نے بتایا کہ جلوس کے پُرامن انعقاد کے لیے دو ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال سیکورٹی اور ہجوم کے نظم و نسق کے لیے جدید اور مؤثر اقدامات کیے گئے، جن کے مثبت نتائج سامنے آئے۔

انہوں نے بتایا کہ جلوس میں شریک ہاتھی کے لیے پیشگی ٹرائل واک کا اہتمام کیا گیا تھا، جس کے باعث ہاتھی نے پورے جلوس کے دوران انتہائی پُرسکون اور تعاون پر مبنی رویہ اختیار کیا۔ پولیس کی جانب سے اندرونی اور بیرونی سیکورٹی حصار قائم کیا گیا، جبکہ ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے خصوصی رسی پارٹیوں کو تعینات کیا گیا۔

جلوس کے پورے راستے کی نگرانی کے لیے ڈرون کیمروں کا استعمال کیا گیا، جبکہ گھڑسوار پولیس دستے بھی سیکورٹی اور ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے تعینات رہے۔

پولیس کمشنر نے جلوس کے کامیاب اور پُرامن انعقاد کا سہرا مختلف سرکاری اداروں کے باہمی تعاون کو دیا، جن میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن، حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ اور محکمہ برقیات شامل ہیں۔

انہوں نے شیعہ برادری، مذہبی رہنماؤں، منتظمین اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون، نظم و ضبط اور ذمہ دارانہ کردار کے باعث محرم کے اس عظیم الشان جلوس کا انعقاد پُرامن ماحول میں ممکن ہوسکا۔

جلوس کے انتظامات کی نگرانی کرنے والی اہم شخصیات میں ایم ایل سی مرزا ریاض الحسن افندی کے علاوہ سینئر پولیس افسران ایم سرینواس (ایڈیشنل کمشنر پولیس، کرائمز اینڈ ایس آئی ٹی)، تفسیر اقبال (ایڈیشنل کمشنر پولیس، لا اینڈ آرڈر)، ڈی جوئیل ڈیوس (جوائنٹ کمشنر پولیس، ٹریفک)، کرن کھرے پربھاکر (ڈی سی پی، چارمینار زون)، آر وینکٹیشورلو (ڈی سی پی، سی اے آر ہیڈکوارٹر) اور ویبھو راگھوناتھ گائیکواڑ (ڈی سی پی، ٹاسک فورس) شامل تھے۔

تاریخی بی بی کا علم کے جلوس کا پُرامن اختتام ایک مرتبہ پھر حیدرآباد کی مذہبی ہم آہنگی، فرقہ وارانہ یکجہتی اور عوام و انتظامیہ کے درمیان مثالی تعاون کی روشن روایت کا مظہر ثابت ہوا۔ (پریس میڈیا آف انڈیا)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں