عوام دوست اور جوابدہ پولیسنگ کے لیے تلنگانہ پولیس میں انقلابی تبدیلیاں ناگزیر: ڈی جی پی سی وی آنند
حیدرآباد، 31 مئی (پی ایم آئی): ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) سی وی آنند نے تلنگانہ پولیس محکمہ میں جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں مؤثر امن و امان کے قیام، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوام کو جوابدہ پولیس خدمات کی فراہمی کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ پولیسنگ ناگزیر ہے۔
وہ ہفتہ کے روز ’’موثر پولیسنگ معیارات کے نفاذ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی ویڈیو کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں ریاست بھر کے پولیس کمشنرز، سپرنٹنڈنٹس آف پولیس، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس، اسسٹنٹ کمشنرز، سرکل انسپکٹرز، سب انسپکٹرز اور کمانڈنٹس نے شرکت کی۔
ڈی جی پی نے کہا کہ ریاستی حکومت اور وزیر اعلیٰ نے پولیسنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فرائض میں غفلت، ضابطوں کی خلاف ورزی، کمانڈ چین کا عدم احترام اور بدعنوانی جیسے منفی رجحانات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ وہ فرسودہ طرزِ عمل ترک کرتے ہوئے شفافیت، کارکردگی اور عوامی اعتماد میں اضافے کے لیے اصلاحات کو اپنائیں۔
سی وی آنند نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران تلنگانہ پولیس کی توجہ ماؤ نواز اور نکسل ازم کے خلاف کارروائیوں پر مرکوز رہی، تاہم گزشتہ پندرہ برسوں میں نکسل اثرات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ اس لیے موجودہ حالات کے مطابق خصوصی یونٹس جیسے گری ہاؤنڈز اور اسپیشل انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ (SID) کے ڈھانچے اور کردار کا ازسرِ نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے خطرہ بننے والی منشیات کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں اور بڑھتے ہوئے سائبر جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ڈی جی پی نے اعلان کیا کہ حکومت جلد ہی ریاست بھر میں ٹریفک نظم و نسق اور سڑکوں کی حفاظت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک مینجمنٹ اینڈ روڈ سیفٹی بیورو قائم کرے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عوامی صحت کے تحفظ اور غذائی ملاوٹ کی روک تھام کے لیے ایک خصوصی فوڈ ایڈلٹریشن ونگ جبکہ سرکاری آمدنی کے تحفظ اور چوری و خردبرد کی روک تھام کے لیے ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ ونگ بھی قائم کیا جائے گا۔
خواتین کے تحفظ اور بچوں کی اسمگلنگ کی روک تھام کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ ان معاملات کو اولین ترجیح دی جائے اور بھروسہ مراکز اور شی ٹیمز جیسے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
ڈی جی پی نے پولیس اسٹیشنوں میں CCTNS 2.0 اور دیگر ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں کے ناقص نفاذ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے نوجوان آئی پی ایس افسران پر مشتمل ایک خصوصی “ڈی جی پی ٹیک ٹیم” کے قیام کا اعلان کیا۔ یہ ٹیم ڈائریکٹر جنرل سی آئی ڈی اور ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز کی نگرانی میں کام کرے گی اور ہاک آئی الٹرا اور ٹی جی-کاپ الٹرا جیسی جدید ایپلی کیشنز کے نفاذ کو یقینی بنائے گی تاکہ ڈیٹا تجزیہ اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔
پولیس فورس میں نظم و ضبط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سی وی آنند نے کہا کہ جونیئر افسران کو اپنے سینئرز کا احترام کرنا چاہیے اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یونٹ افسران صرف نگران نہیں بلکہ ایسے قائد ہونے چاہئیں جو دیانت داری کے ساتھ قانون کی عملداری کو یقینی بنائیں اور عوامی نمائندوں کا قانونی دائرے میں احترام کریں۔
جوابدہی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ڈی جی پی نے تمام پولیس کمشنرز اور سپرنٹنڈنٹس آف پولیس کو ہدایت دی کہ ہر ماہ کی 15 تاریخ سے قبل جرائم کا جائزہ اجلاس منعقد کیا جائے اور اس کی رپورٹ 20 تاریخ تک ڈی جی پی آفس اور سی آئی ڈی کو ارسال کی جائے۔ انہوں نے اضلاع میں یونٹ افسران کی کارکردگی کی نگرانی کے لیے چار خصوصی ڈپٹی انسپکٹر جنرلز (DIGs) کے تقرر کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے تمام یونٹ افسران کو ماہانہ کم از کم دو اچانک معائنے کرنے، خود معائنہ نوٹس تحریر کرنے، سالانہ معائنوں کو بروقت مکمل کرنے، باقاعدہ فیلڈ وزٹ کرنے اور مقامی برادریوں سے روابط مضبوط بنانے کی ہدایت دی۔
عوامی رسائی اور شکایات کے فوری ازالے کو یقینی بنانے کے لیے ڈی جی پی نے تمام پولیس یونٹس کو روزانہ دوپہر 3 بجے سے شام 5 بجے تک عوامی سماعت کے اوقات مختص کرنے اور موصول ہونے والی شکایات و درخواستوں کی فوری یکسوئی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
پولیس ملازمین کی فلاح و بہبود کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مختلف سرکاری محکموں کے تقریباً 6,000 کروڑ روپے کے بقایا جات اور ریٹائرمنٹ فوائد کی ادائیگی کے سلسلے میں مثبت فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2,000 کروڑ روپے پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی 4,000 کروڑ روپے آئندہ 100 دنوں میں مرحلہ وار ادا کیے جائیں گے۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں کو یقین دلایا کہ تمام جائز واجبات جلد ادا کر دیے جائیں گے۔
ویڈیو کانفرنس کے دوران مختلف محکموں کے سینئر افسران نے اپنی کارکردگی اور سرگرمیوں پر تفصیلی رپورٹس بھی پیش کیں۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرلز، انسپکٹر جنرلز، پولیس کمشنرز، سپرنٹنڈنٹس آف پولیس، اسٹیشن ہاؤس افسران اور ریاست بھر کے دیگر اعلیٰ پولیس افسران نے شرکت کی۔ (pressmediaofindia.com)


















