امن کمیٹیاں جرائم سے پاک شہر کے لیے پولیس اور عوام کے درمیان اہم پل ہیں: ‘کمشنر پولیس وی سی سجنار آئی پی ایس

حیدرآباد گنگا جمنی تہذیب کی زندہ علامت ہے: تفسیر اقبال’ آئی پی ایس

افواہوں اور گمراہ کن معلومات کے خلاف چوکسی کی ہدایت

سائیبر جرائم اور منشیات کے خاتمے پر خصوصی توجہ

حیدرآباد 16 فروری (نجف علی شوکت — پی ایم آئی): شہر میں امن و امان کے قیام میں عوامی شمولیت کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے کہا کہ امن کمیٹیاں پولیس اور عوام کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتی ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھتے ہوئے جرائم سے پاک معاشرے کی تشکیل میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔وہ پیر کے روزبنجارہ ہلز میں واقع کے آڈیٹوریم میں مرکزی امن و فلاحی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

کمشنر نے حیدرآباد کو “گنگا جمنی تہذیب” کی روشن مثال قرار دیتے ہوئے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اس اتحاد و یگانگت کی روایت کی حفاظت کریں۔وی سی سجنار نے بتایا کہ 1984 میں قیام کے بعد سے امن کمیٹیوں نے قانون و نظم برقرار رکھنے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں اور ان کمیٹیوں کے تعاون نے ہی حیدرآباد کو عالمی ترقی کے مرکز کے طور پر ابھرنے میں مدد دی۔آنے والے تہواروں کے پیش نظر انہوں نے نچلی سطح پر مضبوط رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تقریبات بھائی چارے کے ماحول میں منعقد ہوں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں اور افواہوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی منافرت بھڑکانے والی گمراہ کن مہمات کا مقابلہ مصدقہ معلومات کے ذریعے کیا جائے۔

اجلاس میں سائئبر جرائم میں اضافے اور منشیات و گانجے کے پھیلاؤ جیسے مسائل پر بھی غور کیا گیا۔ کمشنر نے ان خطرات کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں اور پولیس پر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ حیدرآباد ملک کے محفوظ ترین شہروں میں شامل رہے۔مقامی مسائل کے مؤثر حل کے لیے یہ بھی اعلان کیا گیا کہ ہر تین ماہ بعد زونل سطح پر امن کمیٹیوں کے اجلاس لازمی طور پر منعقد کیے جائیں گے، جبکہ شہریوں سے تجاویز بھی طلب کی گئیں۔حیدرآباد گنگا جمنی تہذیب کی زندہ علامت ہے

ایڈیشنل کمشنر آف پولیس تفسیر اقبال آئی پی اس نے اپنے مختصر مگر جامع خطاب میں حیدرآباد کو ایک سرسبز و شاداب باغ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گنگا جمنی تہذیب صرف دو دریاؤں کے کناروں تک محدود نہیں بلکہ ایک مشترکہ ثقافتی روح ہے جو اس شہر کی شناخت بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ روایت مذہبی رواداری، ثقافتی ہم آہنگی اور انسانی اخوت کی علامت ہے اور صدیوں سے مختلف مذاہب اور برادریوں
کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق حیدرآباد محبت، برداشت اور مشترکہ تہذیب کا علمبردار ہے جہاں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگ باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔انہوں نے پرانے پل میں پیش آئے حالیہ واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے امن کمیٹیوں کے کردار کی تعریف کی اور کہا کہ حساس حالات میں عوام اور پولیس کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے میں ان کی بروقت مداخلت انتہائی مؤثر ثابت ہوئی۔اجلاس میں سینئر پولیس افسران، جن میں جوائنٹ کمشنرز ڈی جوئل ڈیوس، ایس ایم وجے کمار اور این شویتا سمیت متعدد زونل اور ٹریفک ڈی سی پیز شامل تھے، شریک ہوئے۔

.اجلاس میں مرکزی امن و فلاحی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری جناب سری کشن شرما، سرپرست حافظ مظفر حسین اور مختلف زونل صدور ’ سری ششی کانت اگروال، سری خواجہ عبدالمعیز، سری خواجہ غا زی الدین، سری محمد معظم علی، محترمہ تیجو وجیا کماری، سری ایس نارائنا ریڈی، سری آر امیندر کمار، سینئر رکن نجف علی شوکت، اعجاز قادری، منیر قادری، ڈاکٹر زین، رکمنی اور دیگر معزز شخصیات شامل تھیں۔ (pressmediaofindia.com)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں