حیدرآباد، 16 جنوری (پی ایم آئی): گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کے انتخابات قریب آتے ہی ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ بعض سیاسی قائدین سیاسی فائدے کے لیے فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکانے کی کوششوں میں مصروف ہو گئے ہیں، تاکہ ماحول کو کشیدہ بنایا جا سکے۔ فرقہ وارانہ تقسیم کو فروغ دینے کی الزامات کی زد میں آنے والی سیاسی جماعتیں مبینہ طور پر اپنے اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے میں لگی ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں بالواسطہ طور پر ایک دوسرے کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

موجودہ پُرآشوب دور میں اس طرزِ عمل کو سیاست کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم ایسی سیاست ملک کی ترقی اور خوشحالی میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق سیکولرازم محض ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے، کیونکہ انتخابات اب مذہب کے نام پر لڑے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اس کا کھلے عام اعتراف نہیں کیا جاتا، لیکن انتخابی مہمات اور عوامی تقاریر کے انداز سے یہی تاثر ملتا ہے۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ تلنگانہ اس وقت پُرامن ہے اور ترقی کی راہ پر مسلسل گامزن ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کو ریاست کو تیز رفتار ترقی کی سمت لے جانے کا سہرا دیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ جی ایچ ایم سی انتخابات سے قبل ان کی پوزیشن کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا سکتی ہیں۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دو طبقوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوششوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ بعض سیاسی طاقتیں مبینہ خفیہ مفاہمت کے تحت اپنے سیاسی مفادات کے لیے ایک دوسرے کے قریب آ سکتی ہیں۔(pressmediaofindia.com)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں