بی جے پی اور کانگریس میں کوئی فرق نہیں: اکبرالدین اویسی کے بیان پر تلنگانہ میں سیاسی ہنگامہ

حیدرآباد، 27 فروری )پی ایم آئی) تلنگانہ کی سیاست میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی نے یہ بیان دیا کہ مسلمانوں کے تعلق سے بی جے پی اور کانگریس کے رویّے میں “کوئی فرق نہیں” ہے، خصوصاً انہدامی کارروائیوں کے معاملہ میں۔سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ دونوں جماعتیں غیر قانونی تعمیرات کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔انہوں نے کہا، “اتر پردیش میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بلڈوزر کے ذریعہ درگاہوں، مساجد اور غریب مسلمانوں کے مکانات کو منہدم کر رہے ہیں۔ تلنگانہ میں وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی بھی اسی شدت کے ساتھ کارروائیاں کر رہے ہیں۔

مسلمانوں کے تئیں ان کی دشمنی واضح ہے۔”اویسی کے اس بیان پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ اور سیاسی بیان قرار دیا۔ پارٹی قائدین نے کہا کہ دونوں حکومتوں کا موازنہ کرنا مناسب نہیں ہے۔بی جے پی کے ریاستی ترجمان این وی سبھاش نے اویسی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک منتخب عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے انہیں محتاط زبان استعمال کرنی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں کی جانے والی کارروائیاں جرائم پیشہ عناصر اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ہیں، نہ کہ کسی مخصوص طبقہ کے خلاف۔سیاسی حلقوں میں اس بیان کو اس لئے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) ریاست میں کانگریس حکومت کی تائید کرتی رہی ہے اور حالیہ جوبلی ہلز ضمنی انتخاب میں بھی کانگریس امیدوار کی حمایت کی تھی۔اس بیان کے بعد ریاست کی سیاست میں گرما گرمی بڑھ گئی ہے اور مختلف جماعتوں کے قائدین کی جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔(Pressmediaofindia.com)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں