Silence Over Protection of Koh Imam Zamin Land Raises Concerns; Koh Qaim Reportedly Next Target
حیدرآباد، یکم مارچ (پی ایم آئی): شہر میں کوہ امام ضامن کی اراضی پر مبینہ تعمیرات کی اطلاعات کے بعد شیعہ برادری کے مختلف حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں فوری اور مشترکہ اقدام کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔باوثوق ذرائع کے مطابق، اراضی پر سرگرمیوں کی خبروں کے بعد برادری کے چند بااثر افراد نے ذمہ داران کو مشورہ دیا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اجلاس طلب کیا جائے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس معاملے میں کوہ امام ضامن کمیٹی کو پیش قدمی کرنی چاہیے اور متعلقہ شخصیات کو ایک میز پر لانا چاہیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ اجلاس میں چار اہم مذہبی و سیاسی شخصیات کو مدعو کیا جائے، جن میں موجودہ شیعہ رکن وقف بورڈ ڈاکٹر نثار حسین حیدر آغا، متولی ہونے کے دعویدار قمر حسن رضوی، سابق ایم ایل سی و سابق شیعہ رکن وقف بورڈ الطاف حسین رضوی اور موجودہ ایم ایل سی ریاض الحسن آفندی شامل ہیں۔ برادری کے افراد کا کہنا ہے کہ چونکہ بعض شخصیات خود کو شیعہ قوم کا نمائندہ ظاہر کرتی ہیں، اس لیے ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس حساس معاملے میں سنجیدہ کردار ادا کریں۔
مقامی حلقوں کے مطابق کوہ امام ضامن کی اراضی نہایت قیمتی ہے اور اسے امام رضا علیہ السلام کی بارگاہ سے منسوب کیا جاتا ہے، جس کے باعث اس کا تحفظ مذہبی اور سماجی لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔ برادری کے افراد نے اختلافات بھلا کر متحدہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ لینڈ گرابرس کا اگلا ہدف کوہ قائم کی اراضی ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں سوشل میڈیا مباحث سے آگے بڑھ کر عملی اور قانونی اقدامات کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ قیمتی اوقافی جائیدادوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔(pressmediaofindia.com)


















