مہاراشٹر میں مقامی سطح پر مجلس اور کانگریس سے اتحاد’ شیو سینا (یو بی ٹی) کا بی جے پی پر نظریاتی سمجھوتے کا الزام

ممبئ 9 جنوری: مہاراشٹر میں 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیوں میں تیزی کے درمیان، ادھو بالا صاحب ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا (یو بی ٹی) نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر اقتدار کے حصول کے لیے اپنے نظریاتی موقف سے سمجھوتہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

پارٹی کے ترجمان اخبار سامنا میں شائع ہونے والے اداریے میں شیو سینا (یو بی ٹی) نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) اور کانگریس کے ساتھ مقامی سطح پر اتحاد کیے ہیں، جنہیں اداریے میں “شرمناک منافقت” قرار دیا گیا۔

اداریے کے مطابق، بی جے پی کی اولین ترجیح کسی بھی قیمت پر اقتدار میں رہنا بن چکی ہے اور اس کی ہندوتوا سے وابستگی نظریاتی کے بجائے سیاسی مجبوریوں پر مبنی ہے۔ اس میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ماضی میں بی جے پی نے اتر پردیش، بہار اور مہاراشٹر جیسے ریاستوں میں انتخابات کے دوران اے آئی ایم آئی ایم کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن ووٹوں کی تقسیم کی۔

بلدیاتی اداروں کی حالیہ پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے شیو سینا (یو بی ٹی) نے دعویٰ کیا کہ اکولا ضلع کی اکوت میونسپل کونسل میں بی جے پی نے اے آئی ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کیا، جبکہ امبرناتھ میونسپل کونسل میں ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا کے خلاف کانگریس کے ساتھ تعاون کیا گیا

اداریے کے مطابق، عوامی تنقید کے بعد وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے ان اتحادوں سے خود کو الگ ظاہر کرنے کی کوشش کی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی، تاہم شیو سینا (یو بی ٹی) کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی شبیہ کو پہنچنے والا نقصان پہلے ہی ہو چکا ہے۔

اداریے میں بی جے پی پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ اس نے کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور شیو سینا سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماؤں کو اپنی صفوں میں شامل کیا ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ بی جے پی کے کئی ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ اور مقامی نمائندے ان جماعتوں سے آئے ہوئے ہیں، جو پارٹی کے سابق نعرے “کانگریس مکت بھارت” سے انحراف کی نشاندہی کرتا ہے۔

شیو سینا (یو بی ٹی) کے مطابق، بی جے پی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی محض انتخابی کامیابی تک محدود ہو چکی ہے اور پارٹی اقتدار کے حصول کے لیے کسی بھی جماعت یا فرد کے ساتھ اتحاد کرنے کو تیار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں