اسلام آباد۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلطان نے سعودی عرب میں قید 2107 پاکستانیوں کی رہائی کا حکم دیا ہے، تاہم وہاں پر مختلف جرائم میں قید پاکستانیوں کی تعداد تین ہزار کے قریب ہے۔سعودی عرب کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تعداد 2970 ہے جن میں سے سعودی ولی عہد کے حکم پر 2107 قیدیوں کی رہائی کی امید ہے لیکن اب بھی سعودی جیلوں میں بند 863 پاکستانیوں کا مستقبل بدستور تاریک ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سعودی عرب میں 1337 پاکستانی منشیات سمگلنگ اور 446 چوری کے جرم میں قید ہیں، 356 پاکستانی دھوکا دہی اور 237 غیر اخلاقی جرائم کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ 89 پاکستانی قتل کے ملزم، 45 افراد لڑائی جھگڑے اور 451 دیگر جرائم میں گرفتار کئے گئے ہیں۔خیال رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں قید 2107 پاکستانیوں کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ یہ حکم وزیراعظم خان کی درخواست پر جاری کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے سعودی عرب میں قید پاکستانیوں کے مسائل کا ذکر کیا تھا۔ جواب میں ولی عہد محمد بن سلمان نے 24 گھنٹے مکمل ہونے سے پہلے 2 ہزار 107 پاکستانیوں کی رہائی کا فرمان جاری کر دیا۔رہائی کا حکم وزیراعظم عمران خان کی درخواست پر دیا گیا۔ ولی عہد محمد بن سلمان اپنے آپ کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر قرار دے چکے ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے امید ہے باقی ماندہ پاکستانیوں کے بارے بھی جلد فیصلہ کیا جائے گا، ہمارے لیے یہ بہت بڑی خبر ہے، بہت سے پاکستانی خاندانوں کی آج سنی گئی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے بے حد شکرگزار ہیں، اس خیر سگالی اقدام سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہونگے۔
بی جے پی کی کامیابی پر مودی کا بیان: انتقام نہیں، تبدیلی کی سیاست؛ دراندازوں کے خلاف ایکشن ہوگا
سی وی آنند آئی پی ایس نے تلنگانہ کے نئے ڈی جی پی کا عہدہ سنبھال لیا� منشیات کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان
10 روپے کی بحث، جان لیوا حملہ: حیدرآباد کا چونکا دینے والا واقعہ
نجمن سقائے سکینہؐ کی مرکزی انجمن میں دوبارہ شمولیت کی درخواست منظور حیدرآباد (18 اپریل): شہر حیدرآباد کی قدیم ماتمی تنظیم انجمن سقائے سکینہؐ کی بحالی کے بعد اس کی مرکزی انجمن ماتمی گروہان میں دوبارہ شمولیت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں انجمن کے بانی و صدر سید اصغر علی خاں اور جنرل سکریٹری محمد یوسف نے مرکزی انجمن ماتمی گروہان کے صدر سید نجف علی شوکت سے ملاقات کی اور تنظیم کی دوبارہ شمولیت کے لیے باقاعدہ درخواست پیش کی۔ مرکزی انجمن کے صدر سید نجف علی شوکت نے درخواست کو قبول کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو محرم الحرام سے قبل منعقد ہونے والے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی باضابطہ منظوری دی جائے گی۔ واضح رہے کہ انجمن سقائے سکینہؐ کا قیام 1978 میں عمل میں آیا تھا اور یہ ماضی میں شہر کی نمایاں اور فعال ماتمی انجمنوں میں شمار ہوتی رہی ہے۔ انجمن سے وابستہ معروف شخصیات میں سید علمدار نجفی نوحہ خوانی کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے، جبکہ آغا محمد شیرازی نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے مرثیہ و نوحہ خوانی میں بھی حصہ لیتے تھے۔ ہر سال 5 ربیع الاول کو انجمن کی روایتی وداعی مجلس منعقد کی جاتی تھی۔ ماتمی حلقوں کی جانب سے انجمن کی دوبارہ تنظیمی فعالیت اور مرکزی انجمن میں شمولیت کو ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تلنگانہ میں جن سینا پارٹی کی رکنیت سازی مہم تیز، تنظیمی ڈھانچہ مضبوط بنانے پار ٹی قا ئدین سر گرم


















