“ہم سب ایک قوم، ایک تہذیب اور ایک مادرِ وطن کے وارث ہیں۔
قومی یکجہتی ہی مضبوط ہندوستان کی بنیاد ہے۔”
حیدرآباد 24ڈسمبر (نجف علی شوکت ۔پی ایم آئی):مسلم راشٹریہ منچ (ایم آر ایم) آج اپنے قیام کے 23 برس مکمل کر رہا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں مختلف تقاریب، مکالمے اور سماجی سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا، جن کا مقصد قومی یکجہتی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مثبت سماجی مکالمے کو فروغ دینا ہے۔
مسلم راشٹریہ منچ کا قیام 24 دسمبر 2002 کو ایک تاریخی عید ملن پروگرام کے دوران عمل میں آیا، جس میں مسلم دانشوروں اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرکردہ قائدین نے شرکت کی۔ یہ اجتماع معروف صحافی و مفکر پدم شری مظفر حسین اور ان کی اہلیہ نفیسہ حسین کی کاوشوں سے منعقد ہوا، جو اس وقت نیشنل کمیشن فار ویمن کی رکن تھیں۔
اس پروگرام میں اس وقت کے آر ایس ایس سرسنگھ چالک پوجنیہ کے ایس سدرشن، آر ایس ایس نظریہ ساز ایم جی ویدیہ، سینئر رہنما ڈاکٹر شری اندر یش کمار، آل انڈیا امام کونسل کے صدر مولانا جمیل الیاسی، مولانا وحید الدین خان، فتح پوری مسجد کے شاہی امام مولانا مکرم، صوفی علما، ماہرین تعلیم اور دیگر ممتاز شخصیات شریک ہوئیں۔
فاؤنڈیشن ڈے کی بنیاد اسی سوال سے جڑی ہے کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان برادریوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو کس طرح کم کیا جائے۔ اس موقع پر اٹھائے گئے نکات اور مکالمے نے ایک نئی فکری سمت متعین کی، جس میں قومیّت کو مرکزی ستون کے طور پر اپنایا گیا۔ ڈاکٹر شری اندر یش کمار کی پیش کردہ “تیسری راہ” نے اس نظریے کو مضبوط کیا کہ مشترکہ تہذیب، ثقافت، آباؤ اجداد اور مادرِ وطن ہی ہندوستانی معاشرے کی اصل طاقت ہیں۔
گزشتہ 23 برسوں میں مسلم راشٹریہ منچ نے ملک بھر میں اپنی موجودگی مستحکم کی ہے۔ آج تنظیم کی سرگرمیاں 25 ریاستوں کے 400 سے زائد اضلاع میں پھیلی ہوئی ہیں، جہاں 2500 سے زیادہ اکائیاں سماجی بیداری، تعلیم، صحت، یوتھ ایمپاورمنٹ اور قومی شعور کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کی سرگرمیوں نے لاکھوں مسلمانوں کو قومی دھارے سے جوڑنے میں مدد دی ہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو تقویت ملی ہے۔ مسلم راشٹریہ منچ خود کو مذہب سے بالاتر ہو کر قومی مفاد اور ہندوستان کی سالمیت کے لیے کام کرنے والا پلیٹ فارم قرار دیتا ہے۔
فاؤنڈیشن ڈے کے موقع پر تنظیم کے ذمہ داران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آنے والے برسوں میں سماجی ہم آہنگی، تعلیم، خواتین و نوجوانوں کی شمولیت اور قومی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کی جائیں گی


















