رجب کے چاند کے ساتھ سیا سی چاند بھی نمو دار’ ۔عوام کا ریمارک نقّارہ میں ہلکی رکاوٹ

مذ ہبی پرو گراموں کو سیاسی مداخلت سے پاک بنا نے شیعہ قوم کی کمشنر پولس سے ےپیل۔

حیدرآباد، 21 دسمبر (پی ایم آئی):پرانے شہر حیدرآباد میں رجب کا چاند نظر آتے ہی نقاروں کے ذریعے اعلان کی صدیوں پرانی روایت ایک بار پھر تنازع کا شکار ہو گئی۔نقّا رہ کی روایت قطب شاہی دور سے چلی آ رہی ہے جو آصف جاہی عہد، آزادی کے بعد اور آندھرا پردیش حکومت کے دور میں بھی برقرار رہی، جس میں پولیس کا تعاون ہمیشہ شامل رہا ہے۔

غیر مصد قہ اطلاع کے مطابق آج پنجہ شاہ ولایت سے برآمد ہونے والے نقارے کو اجازت نہ ہونے کی وجہ بتا کر روک دیا گیا، جس کے باعث نقارے کے منتظر شیعہ برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔ مقامی سطح پر یہ باتیں سامنے آئیں کہ ایک سیاسی شخصیت کی مبینہ غلط معلومات کے نتیجے میں چارمینار پولیس نے مداخلت کی۔ تاہم بعد ازاں ایک دوسری شخصیت نے نقارے کی تاریخی اور روایتی حیثیت واضح کرتے ہوئے پولیس کی غلط فہمی دور کر دی۔

واضح رہے کہ حیدرآباد کے پہلے کمشنر پولیس طالب الدولہ چارمینار پر اسی نقارے کا استقبال کیا کرتے تھے اور سہرا بھی چڑھایا جاتا تھا۔ شیعہ برادری، جو ایک پرامن قوم ہے، میڈیا کے ذریعے کمشنر پولیس وی سی سجنار، آئی پی ایس، اور ڈی سی پی ساؤتھ زون کرن کھیر پر بھاکر کی توجہ اس جانب مبذول کروا نا چا ہتی ہے کہ ان کے روایتی مذہبی پروگراموں میںسیا ست دا نوں کی غیر ضروری مداخلت سے گریز کرتے ہوئے سابقہ روایت کے مطابق مکمل تعاون کیا جائے۔

آج کے واقعے کے بعد بعض نوجوانوں میں یہ جملہ بھی سننے میں آیا کہ ’’رجب کے چاند کے ساتھ ہی ایک داغ دار سیاسی چاند بھی نمودار ہو گیا ہے۔‘

دریں اثنا ‘مرکزی انجمن ماتمی گروہان کے صدر نجف علی شوکت (جرنلسٹ) نے کمشنر پولیس اور ڈی سی پی ساؤتھ زون سے اپیل کی ہے کہ رجب، شعبان اور رمضان المبارک کے دوران تمام مذہبی پروگراموں کے انعقاد میں تعاون کیا جائے اور مناسب بندوبست کیا جائے۔

انہوں نے منتظمین کو بھی مشورہ دیا کہ وہ کم از کم دس روز قبل مذہبی پروگراموں کے انعقاد کے لیے تحریری طور پر پولیس کو اطلاع دیں۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کمشنر پولیس اور ڈی سی پی نے اپنی پریس کانفرنسوں میں واضح کیا ہے کہ عوام بغیر کسی واسطے کے ان سے ملاقات کر سکتے ہیں پولیس قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن تعاون کرے گی، تاہم قانون کی خلاف ورزی کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ نجف علی شوکت نے کہا کہ شیعہ برادری کے مطالبات آئینِ ہند میں دیے گئے بنیادی اور مذہبی حقوق کے آئینی دائرے میں ہیں۔امید ہے پولس ڈپارٹمنٹ سابقہ کی طرح مذہبی پرو گراموں کوسیاسی مداخلت سے پاک بانا نے میں ذمہ دارانہ رول ادا کر ے گا۔
(pressmediaofindia.com)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں