ما ہ رجب کا میلہ سرخیوں میں، بھتہ خوروں کا راج ’، غریب تاجروں میں تشویش

حیدرآباد، 20 دسمبر (پی ایم آئی): شہر حیدرآباد میں مولائے کائنات حضرت علیؑ ابنِ ابی طالب کی ولادت باسعادت کے موقع پر ہر سال پانچ روزہ تقاریب عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کی جاتی ہیں۔ ان تقریبات کے دوران مرکزی جشن، جلوس اور دیگر مذہبی پروگراموں کے انعقاد کے لیے بلدی، برقی، محکمہ آب رسانی اور پولیس کی جانب سے صدر مجلس اسد الدین اویسی کی ہدایت و میر ذوالفقار علی ایم یل اے چار مینار کی نمائند گی پر موثر انتظامات کیے جاتے ہیں، جن میں روشنی اور صفائی کے خصوصی انتظامات قابلِ ذکر ہیں۔زیادہ تر تقریبات حلقہ اسمبلی چارمینار میں منعقد ہوتی ہیں، سال گذستہ بھی مجلسی ارکان اسمبلی کی جانب سے بھرپور تعاون دیکھنے میں آیا۔

ہر سال ماہِ رجب میں کھیت بالسٹی میں واقع گہوارہ علیؑ اصغر میں شبِ ولادت حضرت علیؑ کے موقع پر قدیم جشن کا انعقاد عمل میں آتا ہے، جس کے بانی شاہی سوز خواں عابد مرحوم بتائے جاتے ہیں۔ اسی تاریخی جشن کی مناسبت سے یہاں ایک روایتی میلہ بھی لگایا جاتا ہے، جو برسوں سے جاری ہے۔تاہم رواں برس یہ سالانہ میلہ اس وقت سرخیوں میں آگیا جب وہاں چھوٹے تاجروں سے مبینہ طور پر غیر قانونی رقم وصول کرنے کی شکایات سامنے آئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر دکانیں لگانے والے چھوٹے دکانداروں اور ٹھیلہ بنڈیوں سے یومیہ بنیاد پر بھتہ وصول کیا جا تاہے۔ اطلاعات کے مطابق چھوٹی دکانوں سے مبینہ طور پر 200 روپے جبکہ بڑی دکانوں اور جھولوں سے 500 روپےروزانہ بھتہ وصول کیا جا تا ہے ۔

ا غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق بعض شرپسند عناصر مقامی سیاسی شخصیات کا نام استعمال کرتے ہوئے ’’تحفظ‘‘ کے نام پرغریب تاجروں سے رقم بٹور رہے ہیں۔ ایک سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان عناصر میں کچھ جرائم پیشہ افراد بھی شامل ہیں، تاہم انہیں کسی بھی سیا ست داں کی سر پرستی یا حمایت حاصل نہیں ہےوہ غریب تاجروں کا استحصال کر رہے ہیں۔ادھر میلے میں خرید و فروخت اور تفریح کی غرض سے پرانے شہر کے مختلف محلوں سے بڑی تعداد میں لوگ، بالخصوص خواتین، شریک ہو تے ہیں ۔

اس دوران لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں، جس پر مقامی عوام نے امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔مقامی عوام نے صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی اور رکن اسمبلی چارمینار سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے دس سے بارہ روزہ میلے کے دوران ’’شی ٹیم‘‘ کے علاوہ ٹاسک فورس اور کرائم ٹیموں کی تعیناتی کو یقینی بنائیں۔ ساتھ ہی جیب کتروں اور نشہ آور اشیا استعمال کرنے والوں پر بھی کڑی نظر رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ عوام نے دونوں قائدین سے فوری اقدامات کرتے ہوئے اس معاملے کو ڈی سی پی ساؤتھ زون کے نوٹس میں لانے کی اپیل کی ہے۔(( pressmediaofindia.com)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں