این آئی اے عدالت نے دہلی بم دھماکہ کیس کے ملزم یاسر احمد ڈار کو 26 دسمبر تک تحویل میں بھیج دیا

نئی دہلی:پٹیالہ ہاؤس کی خصوصی این آئی اے عدالت نے جمعرات کو دہلی بم دھماکہ کیس کے ملزم یاسر احمد ڈار کو 26 دسمبر تک قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی تحویل میں بھیج دیا۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو سخت سکیورٹی کے درمیان عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس معاملے میں یاسر احمد ڈار نویں ملزم ہیں۔

پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور خصوصی این آئی اے جج انجو باجاج چندانا نے ایجنسی کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد این آئی اے کی تحویل کی درخواست منظور کی۔ سماعت بند کمرے میں کی گئی۔ اس سے قبل 15 دسمبر کو عدالت نے ڈاکٹر بلال ناصر ملا اور شعیب کی این آئی اے تحویل میں چار دن کی توسیع بھی کی تھی۔

عدالت نے این آئی اے کی درخواست پر بلال ناصر ملا کے ہاتھ کی تحریر کے نمونے لینے کی اجازت دی، جس کے بعد مجسٹریٹ کے سامنے ان کے تحریری نمونے حاصل کیے گئے۔ اگلے دن عدالت کی اجازت سے ان کا وائس سیمپل بھی لیا گیا۔

یاد رہے کہ 10 نومبر کو شام تقریباً 7 بجے دہلی میں ایک متحرک ہنڈائی آئی 20 کار میں ہونے والے بم دھماکے میں 15 افراد جاں بحق جبکہ دو درجن سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ این آئی اے کے مطابق گاڑی مبینہ خودکش حملہ آور عمر ان نبی چلا رہا تھا، جو ضلع پلوامہ کا رہائشی اور فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی میں جنرل میڈیسن ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر تھا۔

این آئی اے نے فرانزک جانچ کے ذریعے گاڑی میں نصب آئی ای ڈی کے ساتھ ہلاک ہونے والے ڈرائیور کی شناخت عمر ان نبی کے طور پر ثابت کی ہے۔ ایجنسی نے عمر ان نبی کی ایک اور گاڑی بھی ضبط کر لی ہے، جس کا کیس میں شواہد کے طور پر معائنہ کیا جا رہا ہے۔

اب تک این آئی اے اس معاملے میں 73 گواہوں کے بیانات درج کر چکی ہے، جن میں دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد بھی شامل ہیں۔ دہلی پولیس، جموں و کشمیر پولیس، ہریانہ پولیس، اتر پردیش پولیس اور دیگر متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ قریبی تال میل کے تحت این آئی اے مختلف ریاستوں میں تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں