کچھ بھارتی لوگ ہماری اپنی زبانیں نہیں جانتے: آر ایس ایس سربراہ بھاگوتر: ’’کچھ بھارتی لوگ اپنی ہی زبانوں سے ناواقف‘‘
ناگپور، 30 نومبر (پی ایم آئی نیوز): راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے اتوار کے روز ملک میں بھارتی زبانوں اور مادری زبانوں کے کم ہوتے استعمال پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ’’کچھ بھارتی لوگ اب اپنی ہی زبانیں نہیں جانتے۔‘‘ یہ بات انہوں نے ناگپور میں ایک کتاب کی رسمِ اجرا کے موقع پر کہی۔
بھاگوت نے کہا کہ ہمیں بطور معاشرہ اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ کس طرح ہماری زبانی وراثت وقت کے ساتھ کمزور ہوتی جا رہی ہے، حالانکہ زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیبی شناخت بھی ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ایک زمانہ تھا جب ہندوستان میں روزمرہ کی گفتگو سے لے کر علمی بحثوں اور سرکاری کام کاج تک، سب کچھ سنسکرت زبان میں ہوتا تھا۔ ’’آج یہ صورتحال ہے کہ ایک امریکی پروفیسر ہمیں سنسکرت پڑھاتا ہے، جب کہ اصل میں ہمیں دنیا کو یہ علم سکھانا چاہیے تھا،‘‘ بھاگوت نے کہا۔
انہوں نے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ آج بہت سے بچے اپنی مادری زبان کے بنیادی الفاظ تک سے ناواقف ہو رہے ہیں اور گھروں میں ملا جلا—یعنی مادری زبان اور انگریزی—بولتے ہیں۔ ’’مسئلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ کچھ بھارتی لوگ اپنی ہی بھارتی زبانیں نہیں جانتے،‘‘ انہوں نے کہا۔
بھاگوت نے واضح کیا کہ اس صورتحال کی وجہ انگریزی میڈیم تعلیم نہیں، بلکہ گھروں میں اپنی زبان نہ بولنے کی عادت ہے۔ ’’اگر ہم گھر میں اپنی زبان صحیح طریقے سے بولیں، حالات بہتر ہو سکتے ہیں، لیکن ہم ایسا نہیں کرتے،‘‘ انہوں نے کہا۔
انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ، جو ایک حد تک قابلِ فہم ہے، لیکن یہ بھی بدلتی ہوئی لسانی ترجیحات کی علامت ہے جو نئی نسل کو اپنی زبانوں سے دور کر رہی ہیں۔
انہوں نے سنت دھنیشور کی مثال پیش کی کہ انہوں نے معاشرے تک گیان پہنچانے کے لیے بھگوت گیتا کو مرہٹی زبان میں پیش کیا تھا۔ بھاگوت کے مطابق آج بھی ہماری زبانوں میں ایسے الفاظ اور تصورات موجود ہیں جن کا انگریزی میں کوئی درست متبادل نہیں ہے۔ ’’دھنیشور کے ایک لفظ کو انگریزی میں کئی الفاظ سے سمجھانا پڑتا ہے، پھر بھی اصل معنی نہیں پہنچ پاتے،‘‘۔
انہوں نے ’’کلپورتش‘‘ جیسے ثقافتی اور مذہبی تصورات کی مثال دیتے ہوئے پوچھا: ’’آپ کلپورتش کا انگریزی میں ترجمہ کیسے کریں گے؟‘‘ ان کے مطابق ایسے الفاظ دکھاتے ہیں کہ ہماری زبانیں معنوی گہرائی رکھتی ہیں جنہیں کسی غیر ملکی زبان میں مکمل طور پر منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
بھاگوت نے بھارتی فلسفیانہ روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری تہذیب وحدت کے اصول پر قائم ہے اور ہمیں اختلافات کے باوجود ایک ہونے کا درس دیتی ہے۔ انہوں نے ایک سنیاسی کا واقعہ سنایا جو غیر ملکی مہمانوں سے کہہ رہا تھا کہ یہ بحث کہ خدا ایک ہے یا متعدد، غیر ضروری ہے—اصل اہمیت تو خدا کے وجود کو تسلیم کرنے کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی روایت لوگوں کو محض ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر خاندان، سماج اور قوم کی بھلائی کے بارے میں سوچنے کا درس دیتی ہے۔ ’’یہ پیغام ہمیں مختلف انداز اور مختلف زمانوں میں سمجھایا گیا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
آخر میں انہوں نے بھگوت گیتا کے بارے میں جاری بحثوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بحث کہ گیتا ’گیان‘ کو اہمیت دیتی ہے یا ’کرما‘ کو، بے معنی ہے۔ ’’جیسے پرندہ دو پروں کے بغیر نہیں اڑ سکتا، انسان کو بھی گیان اور کرم دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور پرندہ خود—یعنی ایمان—بنیاد ہے۔ ایمان کے بغیر گیان تباہ کن بن جاتا ہے، جیسا کہ راون کی مثال ہے،‘‘ ۔.(pressmediaofindia.com)


















