کتہ گورم /2نومبر (پی ایم آئی): اتوار کے روز مانوگور میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب کانگریس کے کارکنوں نے بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے دفتر پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے دفتر میں توڑ پھوڑ کی اور فرنیچر کو آگ لگا دی۔
اطلاعات کے مطابق تقریباً ایک ہزار کانگریس کارکن دفتر پہنچے، بی آر ایس کارکنوں پر حملہ کیا اور سامان کو نقصان پہنچایا۔ اس دوران بی آر ایس کے دو کارکن زخمی ہوگئے۔
کانگریس کارکنوں نے بی آر ایس کے جھنڈے اتار کر کھمبا گرادیا، دیواروں پر نیا رنگ کر کے کانگریس کے جھنڈے لگائے اور دفتر کا نام “تلنگانہ بھون” سے بدل کر “اندیرا امّما بھونم” رکھ دیا۔ انہوں نے کرسیاں، الماریاں اور لکڑی کا فرنیچر باہر پھینک کر آگ لگا دی۔ فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھا دی، جبکہ پولیس صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہی۔
یہ دفتر کئی سال سے تنازعہ کا شکار ہے۔ کانگریس قائدین کا کہنا ہے کہ یہ عمارت 2009 میں ریگا کانتھا راؤ نے بنوائی تھی، جب وہ کانگریس کے ایم ایل اے تھے۔ زمین ایک مقامی کانگریس کارکن نے دی تھی۔ 2019 میں جب کانتھا راؤ بی آر ایس میں شامل ہوئے تو انہوں نے اسی عمارت کو بی آر ایس دفتر بنا دیا۔
ریگا کانتھا راؤ نے اس حملے کی سخت مذمت کی اور الزام لگایا کہ مقامی کانگریس ایم ایل اے پایم وینکٹیشورلو اور ضلع کے تین وزراء نے کارکنوں کو اُکسایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین بی آر ایس کی ضلع کی ترقی کے لیے کی جانے والی جدوجہد برداشت نہیں کر پا رہے۔
کانتھا راؤ نے بی آر ایس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ اس واقعے کے خلاف تمام منڈل ہیڈکوارٹرز پر احتجاج کریں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شام میں پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔. ( Pressmediaofindia.com)


















