چپ تعزیہ جلوس کا الاوہ یتیماں سے آغاز اختتام الاوہ سرطوق پر

امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے موقع پر ضریح مبارک جلوس کے ساتھ
امام حسن عسکریؑ کی شہادت کے موقع پر ضریح مبارک جلوس کے ساتھ
الاوہ سرطوق میں امام زمانہؑ کو پرسہ دینے کے بجائے سیاسی قائدین کی ستا ئش’ عقیدت یا چاپلوسی؟
نوحہ خوانی کے دوران بد نظمی، منصوبہ بندی کا شبہ
مجلس پر سہ سے قبل عزاداری میں سیاسی قائدین کی ستائش پر عوامی بر ہمی
صدر مجلس اسد الدین اویسی کی عقیدت پر اعتمادخود ساختہ مرکز کی
بی جے پی رہنما فراست باقری کا بیان اختتام کے بعد’قوم کو نا پسند

حیدرآباد4ستمبر(رپورٹ سید حسین علی سینیرصحا فی)ارض دکن کا تاریخی جلوس چپ تعزیہ 8ربیع الاول یکم ستمبر کو 4;30بجے شام بعد مجلس گروہ جعفری (آغا عباسی)بر آمد ہو کر مختلف راستوں سے ہو تا ہوا قبل از مغرب الاوہ سر طوق پہنچ کر مجلس پر سہ میں تبدیل ہو گیا۔اس طرح دو ماہ آٹھ دن سے جاری عزائے مظلو م کربلا کی آخری مجلس کا اذاں سے قبل اختتام عمل میں آیا۔مرکزی انجمن ما تمی گروہان کی جانب سے صدر مرکزی انجمن نجف علی شوکت و دیگر عہدداروں و ارکان کی زیر نگرانی نکا لے گئے اس جلوس میں ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی۔یوم شہادت حضرت امام حسن عسکریؑ ہو نے کے سبب ’’ضریح مبارک’’ جلوس کے ہمراہ تھی۔تنویرآغا کی نو حہ خوانی میں جب ضریح الاوہ سرطوق میں داخل ہو رہی تھی چند افراد نےبد نظمی پیدا کی ۔بتا یا جا ہے کے یہ کام ایک بار پھر منصبوبہ بند معلوم ہوتا ہے۔سال 2023میں بھی شر پسندوں نے تنویر آغا او ر ان کے فر زندوں کو نشانہ بنا یا تھا۔اس سلسلے میں پو لیس میرچوک نے ایک کیس درج کیا تھا جو عدالت میں زیر دوراں ہے۔

اس واقعہ کی پر زور مذمت کے ساتھ ساتھ شیعہ قوم کی اکثریت نے الاوہ سرطوق میں قبل از مجلس پرسہ سیاسی جما عتوں اور سیا سی قائدین کی ستائش کو مبینہ طور چاپلوسی کا نام دیااورسخت الفاظ میںعزاداری کو سیاسی اکھا رہ بنا نے پر ہر دو جما عتوں کے قائدین مجلس کے ایم یل سی کی خاموشی اور بی جے پی کے فراست علی باقری کے بیان کو ا پنے آقاؤں کی خشنودی حصول قرار دیا گیا۔
سو نے پے سہا گہ خود ساختہ مر کز کے صدرنےچاپلوسی کی حدوںکو پار کر تے ہوئے موقع غنیمت جان کرصدر مجلس اور دیگر مجلسی قائدین کی ستائش کےبے انتہا تعریف کے لا حا صل پل بندھے۔شیعہ قوم کا اس بات پر اعتراض ملا جلا ہے۔تا ہم چند ایک غلا ما نہ ذہنیت رکھنے والوں کو چھوڑ کر ساری قوم نےاس بات پرسخت اعتراض کیا کے افسوس کے حضرت امام حسن ؑعسکری کی شہادت اور امام زمانہ کی یتیمی کے سوگ کا خیال نہ کر تے امام عصر کوپرسہ دینے کے بجائے قبل از مجلس غم اہلیبیت پرسیاسی قائدین کی خوشنودی کو تر جیح دی۔وہ بعد از مجلس’ جماعت کی شیعہ شخصیت اور دسروں کی ستا ئش کر سکتے تھے۔ایسا قوم کے نو جو انوں خیال ہے۔مجلس کے صدر اسد الدین اویسی کو قریب سے جا ننے والوں کا کہنا ہے ۔اس میں دو رائے نہیں کے صدر مجلس مظلوم کر بلا اور اہلیبیت سے والہا نہ عقیدت رکھتے ہیں۔اور انتخابات میں مہم کے آخری جلسے میں قوم و ملت اسلا میہ کو ان کا واسطہ دیکر اتحاد بین المسلمین کو بنائے رکھنے پر زودینے والی شخصیت غم اہلیبیت کے غم زدہ ماحول میں وہ اپنی ستائش کیسے پسند کر ینگے۔کچھ لوگ اپنے آپ کو شیعہ قوم ٹھیکہ دار ثابت کر نے کے لئے ایسی اوچھی حر کتیں کر رہے ہیں۔
اس کے بر خلاف بی جے پی کے فراست باقری نے بھی اس بھی اس پلٹ فا رم کا ستعمال کیا وہ بھی نامناسب ہے۔لیکن ان بیان عزاداری کے اختتام کے بعد تھا جبکہ الاوہ سر ’وق پر سرخ پرچم لہرا دیا گیا تھا۔خود ساختہ صدربھی سیا سی خوشنودی کےلئے فراست کی طرح بعد میں کر سکتے کیوں نہیں کیا’کیونکہ مجمع ضریح و مجلس کے انتظار میں ٹہرا ہوا تھا۔اس کا فائدہ اٹھا کر اما م عا لی مقام کو پر سہ دینے کے فرص کو ادا کر نے کے بجائے سیاسی قائدین کی ستائش و تہنیت پیش کر نا اپنا اولین فرض ما نا جس کی ہر گوشہ سے مذ مت ہو رہی ہے۔
۔یہاں اس بات کا ذکربھی ضروری ہے کےخود ساختہ مرکز کے صدر کا جلوس ار بعین اور جلوس چپ تعزیہ کو ئی تعلق نہیں ہے ۔ایک دو مبینہ غیر سما جی عناصروں کا سہارا لیکر خود ساختہ مر کز چلا رہے ہیں ۔جبکہ حقیقی مرکز کے جیا لے ارکان قوم کے نو جوانوں پر ظلم ڈھا
نے والوں کےدباؤ کو مسترد کر چکے ہیں۔(پریس میڈیا ؤف انڈیا )


















