2025 میں حیدرآباد میں جرائم کی شرح میں 15 فیصد کمی، پولیس مؤثر اقدامات : کمشنر پولیس وی سی سجنار

حیدرآباد 27ڈسمبر (پی ایم آئی) سال 2025 کے دوران حیدرآباد سٹی پولیس کی مؤثر کارکردگی کے نتیجے میں شہر میں مجموعی جرائم کی شرح میں 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ بات کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر وی سی سجنار نے سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

کمشنر پولیس نے سٹی پولیس کمشنریٹ کی سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ منشیات کے خلاف سخت کارروائی، سائبر جرائم پر قابو پانے اور روڈی عناصر کے خلاف ٹھوس پالیسیوں کے باعث جرائم میں نمایاں کمی ممکن ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ خواتین پر مظالم اور پاکسو مقدمات میں اضافہ تشویشناک ہے، جس سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کو منشیات سے پاک اور کرائم فری شہر بنانے کے لیے مسلسل اور مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سائبر جرائم میں کمی کے ساتھ ساتھ سزا کے تناسب میں اضافہ ہوا ہے، جو پولیس کی بہتر تفتیش اور مؤثر قانونی کارروائی کا نتیجہ ہے۔

وی سی سجنار کے مطابق منشیات کے خلاف جاری مہم میں رواں سال بہتر نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال منشیات کے معاملات میں 511 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ رواں سال یہ تعداد بڑھ کر 566 ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ بیرونی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

کمشنر پولیس نے بتایا کہ عوامی شعور بیداری پروگراموں کے سبب بالخصوص سائبر جرائم میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ہر ہفتے منگل اور ہفتہ کو شعور بیداری مہمات چلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو آن لائن دھوکہ دہی اور بیٹنگ سے دور رہنے کی تلقین کی اور لڑکیوں کو آن لائن دوستی اور اجنبی افراد پر بھروسہ نہ کرنے کا مشورہ دیا۔

انہوں نے خواتین کو ہراساں کرنے، زیادتی اور تنگ کرنے والوں کو سخت نتائج کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد سٹی پولیس کی شی ٹیمیں مکمل طور پر مستعد اور بروقت کارروائی کر رہی ہیں۔

سال 2026 کے منصوبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کمشنر پولیس نے بتایا کہ ملاوٹی اشیاء کے خلاف سخت پالیسی تیار کی گئی ہے۔ شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک خصوصی اینٹی فوڈ ایڈلٹریشن ونگ قائم کیا جائے گا، جو ایک ڈی سی پی کی نگرانی میں فوڈ سیفٹی اور بلدی حکام کے اشتراک سے کام کرے گا۔

اس کے علاوہ نارکوٹک انفورسمنٹ ونگ کو توسیع دی جائے گی۔ فی الحال دو ٹیمیں خدمات انجام دے رہی ہیں جنہیں بڑھا کر سات ٹیمیں کیا جائے گا، اور حیدرآباد کمشنریٹ کے ہر زون میں ایک ٹیم قائم کی جائے گی۔

کمشنر پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں موجود پانچ لاکھ 22 ہزار سے زائد کیمروں کے ساتھ مزید کیمروں کی تنصیب کی جائے گی۔ جدید ٹکنالوجی کو اے آئی سے مربوط کرتے ہوئے پولیسنگ کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ انہوں نے قتل اور مسلسل وارداتوں سے پیدا ہونے والی عوامی تشویش کے ازالے کے لیے سخت منصوبہ تیار کیے جانے کا بھی اعلان کیا اور شہریوں سے بھرپور تعاون کی اپیل کی۔

اس موقع پر حیدرآباد سٹی پولیس کے دیگر اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے

اس کے علاوہ نارکوٹک انفورسمنٹ ونگ کو توسیع دی جائے گی اور حیدرآباد کمشنریٹ کے ہر زون میں ایک ٹیم کو قائم کیا جائے گا فی الحال دو ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ انہیں سات کردیا جائے گا۔

کمشنر پولیس نے بتایا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی اہمیت کو عوام میں اجاگر کرتے ہوئے مزید کیمروں کی تنصیب عمل میں لانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ شہر حیدرآباد میں 5 لاکھ 22 ہزار سے زائد کیمرے پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سٹی پولیس میں موجودہ ٹکنالوجی کو اے آئی سے مربوط کرتے ہوئے مزید بہتر نتائج حاصل کئے جائیں گے۔ غنڈہ عناصر روڈ اور مجرموں کے خلاف تینوں کمشنریٹ میں تال میل سے ان کا دائرہ تنگ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے قتل کے واقعات اور شہریوں میں مسلسل وارداتوں سے پائی جانے والی بے چینی پر کہا کہ ان وارداتوں کی روک تھام کیلئے سخت منصوبہ تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے شہریوں سے مستقبل میں بہترین تعاون کی اپیل کی۔ اس موقع پر حیدرآباد سٹی پولیس کے دیگر اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔(pressmediaofindia.com)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں