امیٹھی ۔۔گاندھی خاندان کے کھوئے ہوئے گڑھ کو دوبارہ حاصل کرنا کانگریش کے لئے چیلنج

اسمرتی ایرانی نے راہل گاندھی کو 55120 ووٹوں سے شکست دی

امیتھی’3مئی (پی ایم آئی) کانگریس نے گاندھی خاندان کا گڑھ سمجھی جانے والی امیٹھی سیٹ سے اپنے امیدوار کا اعلان کر دیاہے۔اس طرح طویل انتظار پارٹی نے راہول گاندھی کے بجائےکشوری لال شرما کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔سیا سی حلقوں ہل چل پیدا کر دی۔بی جے پی کے امید وار سمر تی ایرا نی کی امیدوں پر پا نی پھیر تے ہوئےراہول گا ندھی کو رائے بر یلی سے امید واس بنا ڈالا۔اس فیصلے کوشطرنج کی چا ل کا نام دیا جا رہا ہے

سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے کی نمائندہ اور الیکشن مینجمنٹ کے انچارج کشوری لال شرما کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ان کے سامنے 2019 میں اس سیٹ پر راہل گاندھی کو شکست دینے والی مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی بی جے پی کی امیدوار ہیں۔ وہیں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) نے اس سیٹ پر ننھے سنگھ چوہان کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ ایس پی-کانگریس اتحاد کی وجہ سے سماج وادی پارٹی نے امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ اس کے باوجود یہاں سہ رخی مقابلہ ہے۔ کے ایل شرما طویل عرصے سے کانگریس اور اس کے انتخابی انتظام سے وابستہ ہیں۔ ان کے سامنے چیلنج گاندھی خاندان کے کھوئے ہوئے گڑھ کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔ یہاں 20 مئی کو ووٹنگ ہونی ہے۔


ایک رپورٹ کے مطابق اگر ہم امیٹھی لوک سبھا سیٹ کے ذات پات کے مساوات کی بات کریں تو یہاں سب سے زیادہ آبادی او بی سی کیٹیگری کی ہے۔ امیٹھی لوک سبھا حلقہ میں او بی سی زمرہ کے تقریباً 34 فیصد ووٹر ہیں۔ جبکہ دلت طبقے کے ووٹروں کی تعداد تقریباً 26 فیصد ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں تقریباً آٹھ فیصد برہمن اور بارہ فیصد راجپوت ووٹر ہیں۔ یہاں مسلم ووٹروں کی تعداد 20 فیصد ہے۔ 2019 کے انتخابات کے مطابق امیٹھی لوک سبھا میں ووٹروں کی کل تعداد 17 لاکھ 16 ہزار 102 ہے۔ لہٰذا، اگر ہم اسے وسیع طور پر دیکھیں تو مسلم ووٹروں کی تعداد تقریباً 3.5 لاکھ ہے۔
اسمرتی ایرانی نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں یہاں سے راہل گاندھی کو شکست دے کر تاریخ رقم کی تھی۔ براہ راست مقابلے میں اسمرتی ایرانی نے راہل گاندھی کو 55120 ووٹوں سے شکست دی۔ اسمرتی ایرانی کو 468514 ووٹ ملے۔ جبکہ راہل گاندھی کو 413394 ووٹ ملے۔اسمرتی ایرانی کے امیٹھی سے الیکشن جیتنے کے بعد امیٹھی میں بی جے پی مضبوط ہوتی جارہی ہے۔ اس کا نتیجہ گزشتہ دو اسمبلی انتخابات کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے۔ لوک سبھا کے تحت 5 اسمبلی سیٹیں ہیں۔ جبکہ 2012 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے ایک بھی سیٹ نہیں جیتی تھی، لیکن 2017 کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی نے گوری گنج کو چھوڑ کر تمام سیٹوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ کانگریس کا کھاتہ 2017 میں نہیں کھلا تھا۔ 2022 کے اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی نے لوک سبھا کی پانچ میں سے تین سیٹیں جیتی تھیں۔ دو سیٹیں ایس پی کے کھاتے میں گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں