ایرانیوں کی نمازِ عید کی ادائی، پاسداران انقلاب کے ترجمان کے جنازے میں شرکت

تہران پر 28 فروری کے مشترکہ حملے کے بعد سے تقریباً روزانہ بمباری کا سلسلہ جاری

یران میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے نمازِ عید الفطر ادا کی۔ عید کی نماز کے اجتماعات کی فوٹیج ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی۔ یہ عبادات مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی شدید کشیدگی کے سائے میں ادا کی گئیں۔ ایران میں ہفتے کے روز عید الفطر کا پہلا دن منایا گیا، جبکہ دیگر اکثر اسلامی ممالک میں گذشتہ روز عید منائی گئی تھی۔

طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی نمازیوں کا ایک جم غفیر وسطی تہران میں واقع جامع امام خمینی میں اکٹھا ہوا، جو جمہوریہ اسلامیہ کے بانی کے نام سے موسوم ہے۔ جگہ کی کمی کے باعث نمازیوں کی بڑی تعداد نے کھلے آسمان تلے نماز ادا کی۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے بمباری کے خطرے کے باوجود جامع مسجد کے اطراف میں لوگوں کے ہجوم کے مناظر دکھائے۔

ایرانی دارالحکومت تہران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد سے تقریباً روزانہ بمباری کی جا رہی ہے۔ 28 فروری کو اس جنگ کا آغاز سنہ 2026ء کو ہوا تھا، جس کے نتیجے میں رہبرِ اعلیٰ سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار ہلاک ہو چکے ہیں۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق رات کے وقت ہونے والی فضائی غارت گری میں تہران کے کئی محلوں، مضافاتی علاقوں اور اصفہان شہر کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی ٹیلی ویژن نے ملک کے دیگر حصوں میں بھی نمازِ عید کے اجتماعات دکھائے، جن میں وسطی شہر اراک، جنوب مشرق میں زاہدان اور مغربی ایران کا شہر عبادان شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران میں آج ہفتے کے روز پاسداران انقلاب کے ترجمان علی محمد نائینی کا جنازہ بھی اٹھایا گیا، جو گذشتہ روز ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا اور دیگر نیم سرکاری ذرائع نے نائینی کی نمازِ جنازہ کے مناظر نشر کیے۔

ایرانی مہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ دی تھی کہ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی گذشتہ جمعہ کی علی الصبح اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے، تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب نے بھی ایک بیان میں گذشتہ جمعہ کے روز ہونے والے حملے میں نائینی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ نائینی کو ایک تجربہ کار کمانڈر قرار دیا جاتا تھا جنہوں نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک ایران کے لیے خدمات انجام دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں