پاکستان میں عام آدمی کیلئے کچھ بھی ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ گزشتہ ایک مہینے میں پاکستانی کرنسی دنیا میں سب سے زیادہ کمزور ہوئی ہے۔ جس کی قیمت پاکستانیوں کو چکانی پڑ رہی ہے۔ نیوز ایجنسی بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے روزانہ نچلی سطح کو چھو رہا ہے۔روپئے میں گراوٹ کی وجی سے پاکستان میں کھانے۔پینے کی چزوں کے ساتھ۔ساتھ پٹرول۔ڈیژل کی قیمت میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اگلے کچھ مہینوں میں پاکستانی روپیہ 200 فی ڈالر کی سطح کو چھو سکتا ہے۔ ایسا ہونے پر پاکستان میں مہنگائی اور تیزی سے بڑھنے کا اندیشہ ہے کیونکہ پاکستان اپنی ضرورت کا زیادہ ترخام تیل بیرونی سے خریدتا ہے۔ ساتھ ہی روزمرہ کے استعمال میں آنےوالی کئی چیزیں بھی بیرونی ممالک سے منگائی جاتی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کی عمران خان حکومت کیلئے امپورٹ مہنگا ہوجائے گا۔ لہذا مہنگائی اور تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔بلوم برگ کو دئے ایک انٹریو میں ماہر اقتصادیات قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ پاکستانی روپئے کا سنبھالنا بیحد مشکل نظر آرہا ہے کیونکہ قرض بہت زیادہ ہے۔ وہیں حکومت کی ّمدنی گھٹ رہی ہے۔ مہنگائی آسمان چھورہی ہے۔ ایسے میں پاکستانی روپیہ سال کے آخر تک 200فی ڈالر تک جاسکتا ہے۔ پاکستان کے معاشی حالات بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں۔ پاکستان کافی برے وقت سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران روپیہ 20 فیصدی کمزور ہو چکا ہے۔قابل غور ہے کہ کچھ دن پہلے بلوم برگ نے پاکستانی روپئے کو ایشیا کی بدترین کرنسی قرار دے دیا۔ پاکستانی کرنسی افغانستان، بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی کمزور ہو چکی ہے ۔ ہندوستان ،بھوٹان ، تھائی لینڈاور ساؤتھ افریقہ کی کرنسی بھی پاکستان سے بہتر ہے۔ معروف ایجنسی بلوم برگ نے روپے کی قدر کے حوالے سے تازہ ترین رپورٹ جاری کی ہے جس میں روپے کو گزشتہ 8 ماہ کے دوران کارکردگی کے لحاظ سے ایشیاء کی بدترین کرنسی قرار دیا۔پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو ڈالر 124 روپے 50 پیسے کا تھا، اس وقت ڈالر انٹر بینک میں 149 روپے میں ہوچکا ہے۔
نجمن سقائے سکینہؐ کی مرکزی انجمن میں دوبارہ شمولیت کی درخواست منظور حیدرآباد (18 اپریل): شہر حیدرآباد کی قدیم ماتمی تنظیم انجمن سقائے سکینہؐ کی بحالی کے بعد اس کی مرکزی انجمن ماتمی گروہان میں دوبارہ شمولیت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں انجمن کے بانی و صدر سید اصغر علی خاں اور جنرل سکریٹری محمد یوسف نے مرکزی انجمن ماتمی گروہان کے صدر سید نجف علی شوکت سے ملاقات کی اور تنظیم کی دوبارہ شمولیت کے لیے باقاعدہ درخواست پیش کی۔ مرکزی انجمن کے صدر سید نجف علی شوکت نے درخواست کو قبول کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو محرم الحرام سے قبل منعقد ہونے والے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی باضابطہ منظوری دی جائے گی۔ واضح رہے کہ انجمن سقائے سکینہؐ کا قیام 1978 میں عمل میں آیا تھا اور یہ ماضی میں شہر کی نمایاں اور فعال ماتمی انجمنوں میں شمار ہوتی رہی ہے۔ انجمن سے وابستہ معروف شخصیات میں سید علمدار نجفی نوحہ خوانی کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے، جبکہ آغا محمد شیرازی نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے مرثیہ و نوحہ خوانی میں بھی حصہ لیتے تھے۔ ہر سال 5 ربیع الاول کو انجمن کی روایتی وداعی مجلس منعقد کی جاتی تھی۔ ماتمی حلقوں کی جانب سے انجمن کی دوبارہ تنظیمی فعالیت اور مرکزی انجمن میں شمولیت کو ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تلنگانہ میں جن سینا پارٹی کی رکنیت سازی مہم تیز، تنظیمی ڈھانچہ مضبوط بنانے پار ٹی قا ئدین سر گرم
بھا ئی نے کیا بھا ئی کا قتل
جمعہ کے روز ایران میں کم از کم 640 حملے کیے گئے: انسانی حقوق کی تنظیم کا دعویٰ
ایرانیوں کی نمازِ عید کی ادائی، پاسداران انقلاب کے ترجمان کے جنازے میں شرکت


















