مکۃ المکرم- مکہ میں حرم کے سامنے قائم کلاک ٹاور جہاں سال بھر زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے، اب اپنے چار منزلہ عجائب گھر کے ساتھ سیاحتی مقام کے طور پر بھی لوگوں کا استقبال کریگا۔کلاک ٹاور میں بنایا گیا یہ میوزیم اس سال رمضان میں زائرین کے لئے کھولا گیا ہے، جو پورا مہینہ مسلسل کھلا رہے گا۔عجائب گھر کی پہلی منزل پر نظام شمسی کی مجسم عکاسی کی گئی ہے جس کے بعد وقت کے تعین ،کائنات، کہکشاں کے علاوہ نظام شمسی کی گردش کو بیان کرنے کیلئے بہترین اور جدید ترین طریقوں کے ذریعے وضاحت کی گئی ہے۔اس کے علاوہ زائرین کو دنیا کی سب سے بڑی گھڑی جوکہ مکہ ٹاور پرنصب کی گئی ہے، اس کے مختلف مراحل اور تنصیب کے بارے میں بھی تفصیل سے آگاہ کیاجاتا ہے۔ گھڑی کی تیاری میں دنیا کہ بڑی کمپنیوں کی مشترکہ کاوش ہے۔کلاک ٹاور میوزیم کی دوسری منزل ’’وقت‘‘کے بارے میں ہے یہاں مختلف ادوار میں گھڑیوں کی ایجاد کے بارے میں وضاحت کی گئی ہے۔کلاک ٹاور کی تیسری منزل پر کائنات کے رازوں کے بارے میں مجسم عکاسی کرتے ہوئے مختلف مناظر کو پیش کیا گیا ہے علاوہ ازیں چاند اور سورج گرہن سے متعلق مختلف ادوار کو بھی دکھایا گیا ہے۔چوتھی منزل پر زائرین کو خلا اور سیاروں کے بارے میں معلومات مہیا کی گئی ہیں۔ٹاورکے سب سے بلند مقام کو ’’شرفہ‘‘ کہتے ہیں یہاں پہنچ کر زائرین مکہ کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ یہاں سے پورا شہر دیکھا جاسکتا ہے جبکہ زائرین حرم کاانتہائی خوبصورت منظر بھی دیکھ سکتے ہیں۔اپنی اونچائی کی وجہ سے کلاک ٹاور مکہ سے 25کلومیٹر دور سے بھی دکھائی دیتا ہے۔ عمارت کا نام اس پر نصب دنیا کی سب سے بڑی گھڑی پر رکھا گیا ہے، جو چاروں سمتوں سے دکھائی دیتی ہے۔کلاک ٹاور میں یہ خصوصیت رکھی گئی ہے کہ اذان کے وقت ایل ای ڈیز کی جگمگاتی ہیں جن کی روشنی میلوں دور سے دکھائی دیتی ہے۔
سی وی آنند آئی پی ایس نے تلنگانہ کے نئے ڈی جی پی کا عہدہ سنبھال لیا� منشیات کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان
10 روپے کی بحث، جان لیوا حملہ: حیدرآباد کا چونکا دینے والا واقعہ
نجمن سقائے سکینہؐ کی مرکزی انجمن میں دوبارہ شمولیت کی درخواست منظور حیدرآباد (18 اپریل): شہر حیدرآباد کی قدیم ماتمی تنظیم انجمن سقائے سکینہؐ کی بحالی کے بعد اس کی مرکزی انجمن ماتمی گروہان میں دوبارہ شمولیت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں انجمن کے بانی و صدر سید اصغر علی خاں اور جنرل سکریٹری محمد یوسف نے مرکزی انجمن ماتمی گروہان کے صدر سید نجف علی شوکت سے ملاقات کی اور تنظیم کی دوبارہ شمولیت کے لیے باقاعدہ درخواست پیش کی۔ مرکزی انجمن کے صدر سید نجف علی شوکت نے درخواست کو قبول کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو محرم الحرام سے قبل منعقد ہونے والے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی باضابطہ منظوری دی جائے گی۔ واضح رہے کہ انجمن سقائے سکینہؐ کا قیام 1978 میں عمل میں آیا تھا اور یہ ماضی میں شہر کی نمایاں اور فعال ماتمی انجمنوں میں شمار ہوتی رہی ہے۔ انجمن سے وابستہ معروف شخصیات میں سید علمدار نجفی نوحہ خوانی کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے، جبکہ آغا محمد شیرازی نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے مرثیہ و نوحہ خوانی میں بھی حصہ لیتے تھے۔ ہر سال 5 ربیع الاول کو انجمن کی روایتی وداعی مجلس منعقد کی جاتی تھی۔ ماتمی حلقوں کی جانب سے انجمن کی دوبارہ تنظیمی فعالیت اور مرکزی انجمن میں شمولیت کو ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تلنگانہ میں جن سینا پارٹی کی رکنیت سازی مہم تیز، تنظیمی ڈھانچہ مضبوط بنانے پار ٹی قا ئدین سر گرم
بھا ئی نے کیا بھا ئی کا قتل


















