کوئٹہ: کوئٹہ دھماکے میں شہید ہونے و الے20 اافراد میں 2 بچے، ایک ایف سی اہلکار اور ہزارہ برادری کے 8 افراد بھی شامل ہیں، بم آلو کی بوریوں میں رکھا گیا تھا۔ زخمیوں اور لاشوں کو سول اور بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا گیا۔کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں دھماکے کے نتیجے میں ایف سی اہلکار سمیت 20 افراد جاں بحق اور 48 زخمی ہوگئے۔سبزی منڈی میں دھماکا اس وقت ہوا جب لوگوں کی بڑی تعداد خرید و فروخت میں مصروف تھی۔بم ڈسپوزل سکواڈ اور دیگر تحقیقاتی اداروں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کر لئے۔ وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی اور زخمیوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی۔ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے واقعے کے بعد 16 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی جس کے بعد ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوگیا۔ڈی آئی جی کوئٹہ کے مطابق دھماکے میں شہید ہونے والوں میں ایک ایف سی اہلکار اور 7 ہزاری برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں جب کہ واقعے میں 40 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا تھا کہ مزدور آلو کی بوریاں گاڑی میں لوڈ کر رہے تھے کہ اس وقت زور دار دھماکا ہوا، ماہرین کی ٹیمیں تحقیقات کے بعد بتائیں گی کہ آلو کی بوری میں رکھا گیا مواد ریمورٹ کنٹرول تھا یا دیسی اختہ۔وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سمیت سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ہزار گنجی دھماکے کی مذمت کی گئی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اس واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد پہچا نے کی ہدایت دی ہے۔
نجمن سقائے سکینہؐ کی مرکزی انجمن میں دوبارہ شمولیت کی درخواست منظور حیدرآباد (18 اپریل): شہر حیدرآباد کی قدیم ماتمی تنظیم انجمن سقائے سکینہؐ کی بحالی کے بعد اس کی مرکزی انجمن ماتمی گروہان میں دوبارہ شمولیت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں انجمن کے بانی و صدر سید اصغر علی خاں اور جنرل سکریٹری محمد یوسف نے مرکزی انجمن ماتمی گروہان کے صدر سید نجف علی شوکت سے ملاقات کی اور تنظیم کی دوبارہ شمولیت کے لیے باقاعدہ درخواست پیش کی۔ مرکزی انجمن کے صدر سید نجف علی شوکت نے درخواست کو قبول کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو محرم الحرام سے قبل منعقد ہونے والے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی باضابطہ منظوری دی جائے گی۔ واضح رہے کہ انجمن سقائے سکینہؐ کا قیام 1978 میں عمل میں آیا تھا اور یہ ماضی میں شہر کی نمایاں اور فعال ماتمی انجمنوں میں شمار ہوتی رہی ہے۔ انجمن سے وابستہ معروف شخصیات میں سید علمدار نجفی نوحہ خوانی کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے، جبکہ آغا محمد شیرازی نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے مرثیہ و نوحہ خوانی میں بھی حصہ لیتے تھے۔ ہر سال 5 ربیع الاول کو انجمن کی روایتی وداعی مجلس منعقد کی جاتی تھی۔ ماتمی حلقوں کی جانب سے انجمن کی دوبارہ تنظیمی فعالیت اور مرکزی انجمن میں شمولیت کو ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تلنگانہ میں جن سینا پارٹی کی رکنیت سازی مہم تیز، تنظیمی ڈھانچہ مضبوط بنانے پار ٹی قا ئدین سر گرم
بھا ئی نے کیا بھا ئی کا قتل
جمعہ کے روز ایران میں کم از کم 640 حملے کیے گئے: انسانی حقوق کی تنظیم کا دعویٰ
ایرانیوں کی نمازِ عید کی ادائی، پاسداران انقلاب کے ترجمان کے جنازے میں شرکت


















